• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انزری ماربل تنازعے کوبلاجواز طول دینا نہ صرف کھلی ناانصافی ہے، جرگہ

پشاور(لیڈی رپورٹر)قوم موسیٰ خیل کے مشرانملک صدبر خان نے کہا ہے کہ ہم قوم موسیٰ خیل غنم شاہ نہایت تشویش اور اضطراب کے ساتھ متعلقہ حکام کی توجہ ایک سنگین اور دیرینہ مسئلے کی جانب مبذول کرواتے ہیں کہ انزری ماربل تنازعہ 2002 سے مسلسل جاری ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ قومی جرگہ کے واضح فیصلے کے باوجود اس معاملے کو بلاجواز طول دینا نہ صرف کھلی ناانصافی ہے بلکہ علاقے میں شدید بدامنی اور انتشار کو جنم دے رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں دیگر مشنان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر مہمند کو دوٹوک انداز میں آگاہ کرتے ہیں کہ اگر فوری طور پر ڈی آر سی کی اگلی تاریخ مقرر نہ کی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ اس تنازعے میں پہلے ہی بیرونی عناصر کی غیر ضروری اور زبردستی مداخلت نے حالات کو بگاڑ دیا ہے، حالانکہ موسیٰ خیل قوم آپس میں خونی رشتوں، مشترکہ اقدار اور ایک ہی آبا و اجداد کی اولاد ہونے کے ناطے ایک مضبوط برادری ہے۔غیر متعلقہ افراد کی مداخلت نے قوم کے اندر شدید غم و غصہ، نفرت اور بے چینی کو جنم دیا ہے، جبکہ انہیں نہ انسانی جانوں کے ضیاع کا احساس ہے، نہ عزت و وقار کا، اور نہ ہی یتیموں، بیواؤں اور غریب عوام کے حقوق کی کوئی پرواہ ہے ایک جعلی ٹھیکیدار کو مشکوک طریقے سے بارودی لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔مزید برآں لیز نمبر 132 اور 242 میں بدعنوانی، جعلی کارروائی اور بااثر عناصر کی کھلی مداخلت سامنے آ چکی ہے۔ نہ کوئی عوامی اجلاس ہوا، نہ پیشگی اطلاع دی گئی، نہ قانونی تقاضے پورے کیے گئے بلکہ بند کمروں میں فیصلے کر کے غریب قبائل کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
پشاور سے مزید