• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرمز پر ایرانی تجاویز، ٹرمپ کی مشاورت، امن کیلئے سب کچھ کرینگے، پیوٹن

سینٹ پیٹرزربرگ، تہران، کراچی(اے ایف پی، نیوز ڈیسک)ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور مستقل جنگ بندی کیلئے اپنی تجاویز امریکا کے حوالے کردی ہیں،امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی تجاویز پاکستانی ذرائع سے امریکا کو مل چکی ہیں، ٹرمپ نے ایران کی تجاویز پر مشاورت کی ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے تجاویز پر اوول آفس میں اپنی سلامتی ٹیم کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے ، ترجمان کے مطابق ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے، کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ریڈ لائنز بالکل واضح ہیں، امریکا کوئی ایسی ڈیل قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت ہو،ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دورہ ماسکو کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے ، اس موقع پر روسی صدر نے کہا کہ وہ امن کیلئے سب کچھ کریں گے ، پیوٹن نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے تہران کی مدد کا وعدہ کیا ہے، پیوٹن اور عراقچی دونوں نے دوطرفہ "تزویراتی تعلقات" کے عزم کا اعادہ بھی کیا،روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیوٹن نے وعدہ کیا کہ روس "وہ سب کچھ کرے گا جو آپ کے مفادات میں ہو گا تاکہ امن قائم ہو سکے"۔ عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ نے دنیا کو "ایران کی اصل طاقت" اور اس کے حکمرانی کے نظام کا استحکام دکھا دیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے روسی صدر پیوٹن کو بتایا کہ امریکاتخریبی عادات،غیر معقول مطالبات اور موقف میں بار بار تبدیلی سفارتی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔انہوں نے مذاکرات میں ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دےدیا، ان کا کہنا ہے کہ امریکا اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ، ٹرمپ مذاکرات کی درخواست کررہے ہیں اور ہم انکی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے دورہ ماسکو پر اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی ۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ملاقات "مفید" رہی۔ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب خلیج میں سلامتی کو یقینی بنانے سے پہلے ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ایک اور حملے کے خلاف ضمانتوں کی ضرورت ہے۔امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتایا کہ"خلیج فارس اور وسیع تر خطے میں پائیدار استحکام اور سلامتی صرف اسی صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے جب ایران کے خلاف جارحیت کا پائیدار اور مستقل خاتمہ ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ دوبارہ حملہ نہ ہونے کی قابلِ بھروسہ ضمانتیں دی جائیں اور ایران کے جائز خودمختار حقوق اور مفادات کا مکمل احترام کیا جائے۔"امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے "سنجیدہ" ہے، لیکن کسی بھی معاہدے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکے۔ایران کی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت آبنائے ہرمز کی نگرانی اور اختیار ایرانی فوج کے پاس ہوگا۔سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے بتایا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے ہی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتی ہیں اور وہ “دشمن جہازوں” کی آمدورفت روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدن ایرانی کرنسی ریال میں وصول کی جائے گی۔برطانیہ کے وزیرِ مملکت برائے یورپ اور شمالی امریکا، اسٹیفن ڈاؤٹی نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کا ملک ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے حق میں نہیں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئےامریکا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی حمایت کرتا ہے۔روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، کرغزستان کے دورے پر موجود روسی وزیر دفاع آندرے بیلوؤ سوف نے ایران کے نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک سے ملاقات کی ہے۔بیلوؤ سوف نے روس کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ ایران کی جنگ کو صرف اور صرف سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ماسکو اور تہران ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے۔دریں اثناءایرانی ذرائع نے پیر کو بتایا کہ تہران نے تازہ ترین تجویز پیش کردی ہے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک ملتوی رکھا جائے گا جب تک جنگ ختم نہیں ہو جاتی اور خلیج سے جہاز رانی کے تنازعات حل نہیں ہو جاتے۔ جوہری عزائم اور آبنائے ہرمز تک رسائی جیسے اہم مسائل پر فریقین کے درمیان دوری برقرار رہنے کی وجہ سے پیر کو مارکیٹ کھلتے ہی تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل تقریباً 3.5 فیصد اضافے کے ساتھ 108.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیاجبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رحجان رہا۔صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا، "اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا فون کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس محفوظ لائنیں موجود ہیں۔ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔

اہم خبریں سے مزید