کراچی(سید محمد عسکری اسٹاف رپورٹر) گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج گلستانِ جوہر میں درخت کاٹنے کے الزام کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کالج میں کوئی درخت نہیں کاٹا گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو ’’جھوٹی اور گمراہ کن‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 20 اپریل 2026 کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے بعد حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس نے 21 اپریل کو کالج کا دورہ کرکے جامع تحقیقات کیں۔ کمیٹی نے اس دوران تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے بیانات قلمبند کیے جبکہ پرنسپل سے بھی تحریری وضاحت حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق موقع پر معائنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا علاقہ گھنی جھاڑیوں اور جنگلی گھاس سے بھرا ہوا تھا، جہاں صرف صفائی اور دیکھ بھال کے لیے جھاڑیاں صاف کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ نہ تو وہاں کوئی درخت موجود تھا اور نہ ہی کسی درخت کی کٹائی کے شواہد ملے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سینئر کلرک اعجاز بھٹو نے مذکورہ ویڈیو خود ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ رپورٹ کے مطابق ان کے پرنسپل کے ساتھ ذاتی اختلافات تھے اور انہوں نے کمیٹی کے سامنے ویڈیو بنانے اور پھیلانے کا اعتراف بھی کیا۔ عملے کے دیگر ارکان نے اس اقدام کی متفقہ طور پر مذمت کرتے ہوئے اسے ادارے اور پرنسپل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں متعلقہ ملازم کے خلاف سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ساتھ ہی یہ معاملہ سائبر کرائم ونگ (ایف آئی اے) کو بھی بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے پر قانونی کارروائی کی جا سکے۔ مزید برآں، ادارے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ملازم کے تبادلے اور صفائی و نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ پرنسپل نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے صرف جھاڑیوں کی صفائی کی ہدایت دی تھی اور کسی درخت کی کٹائی کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔