اسلام آباد( عاطف شیرازی) معروف ہیلتھ کئیر اسٹریٹجسٹ یاسر خان نیازی نے کہا ہے کہ پائیدار اور موثرپرائمری ہیلتھ کیئر نظام ہسپتال داخلوں میں 30 فیصد تک کمی لا سکتا ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس کے مطابق ملک میں مجموعی صحت پر ہونے والے اخراجات کے 50 فیصد سے زائد براہ راست مریض اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام میں مؤثر مالیاتی انضمام اور رسک پولنگ کی شدید کمی ہے۔ یاسر خان نیازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صحت کے نظام میں بہتری لانےکے لیے شعبہ صحت کوہیلتھ کئیر ایکو سسٹم کےطور پر چلانےکی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہتر علاج کے نتائج کے لیے صحت کے شعبے کو الگ الگ اداروں جیسے اسپتالوں، میڈیکل کالجز، فارماسیوٹیکل کمپنیوں، تشخیصی مراکز اور دیگر سروسز کے ایک منتشر ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط صنعتی نظام (انڈسٹری) کے طور پر دیکھا جائےانہوںنے کہا کہ اگرچہ صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئی ہے اور 2023 میں 13 کروڑ 80 لاکھ افراد کو یونیورسل ہیلتھ سروسز کے تحت شامل کیا گیا، تاہم اب بھی لاکھوں افراد کو صحت کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔