• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیجیٹل طرز زندگی، ٹیکسٹنگ، آن لائن آرڈرز اور ایئرپوڈز کا بے تحاشا استعمال

کراچی(رفیق مانگٹ)ڈیجیٹل طرز زندگی، ٹیکسٹنگ، آن لائن آرڈرز اور ایئرپوڈز کا بے تحاشا استعمال ،امریکی اخبار کے مطابق دنیا بھر میں گزشتہ 10 سال میں انسانی روابط میں 25 فیصد کمی واقع ہو گئی، کافی شاپ کی باتیں اور پڑوسیوں سے حال احوال جاننے کی روایات ماضی کا حصہ بن گئیں ،ان لائن دنیا میں وقت گزاری انسان کی  ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے ،ماضی کے مقابلے میں اب ہر فرد ایک سال میں ایک لاکھ 20 ہزار الفاظ بھی بول نہیں پاتا ،وال اسٹریٹ جرنل  کی رپورٹ کے مطابق جدید ڈیجیٹل طرزِ زندگی نے انسانوں کے باہمی رابطوں کو نمایاں طور پر محدود کر دیا ہے، اور اب لوگ ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم گفتگو کر رہے ہیں۔ ٹیکسٹنگ، آن لائن آرڈرنگ اور ایئرپوڈز جیسے آلات کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف اجنبیوں بلکہ قریبی رشتوں کے درمیان بھی براہِ راست گفتگو کے مواقع کم کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی رابطے متاثر ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ ماضی میں لوگ روزمرہ زندگی میں اپنے اردگرد کے افراد سے غیر رسمی گفتگو کرتے تھے، جیسے کافی شاپ پر  بات چیت یا ہمسائے سے حال احوال، مگر اب یہ روایات تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ زیادہ تر افراد ایپس کے ذریعے آرڈر دیتے ہیں، گھر آتے ہوئے پڑوسیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور قریبی عزیزوں سے بھی فون کال کے بجائے صرف ٹیکسٹ میسج پر اکتفا کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2005 میں ایک شخص اوسطاً روزانہ تقریباً 16,632 الفاظ بولتا تھا، جبکہ 2019 تک یہ تعداد کم ہو کر 11,900 رہ گئی۔ محققین کے مطابق یہ تقریباً 28 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔  ایک سال کے دوران ہر فرد تقریباً ایک لاکھ 20ہزار ایسے الفاظ نہیں بول پاتا جو ماضی میں اس کی روزمرہ گفتگو کا حصہ ہوتے تھے۔

اہم خبریں سے مزید