اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں محتاط انداز میں کاروبار دیکھا گیا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں ترسیل میں تعطل کے مسلسل خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے نے بڑی اسٹاک ایکسچینجز میں دفاعی رجحان پیدا کر دیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 108.37 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 96.27 ڈالر تک پہنچنے نے مارکیٹ میں خطرات سے بھرپور تجارت کا رجحان پیدا کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کار مختلف خطوں میں افراطِ زر (مہنگائی) اور معاشی ترقی کی توقعات کا نئے سرے سے تعین کر رہے ہیں۔ امریکا میں حصص کی منڈیوں نے ایک ملا جلا لیکن مستحکم رجحان ظاہر کیا۔ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث توانائی کے شعبے کے حصص نمایاں طور پر بہتر رہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے حصص نے بڑے انڈیکس کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، مجموعی طور پر مارکیٹ کے جذبات محتاط رہے کیونکہ سرمایہ کار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہنے والی تیل کی قیمتوں کے افراطِ زر (مہنگائی) پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس میں اوپیک باسکٹ کی قیمت بھی شامل ہے جو 108.33 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔