اسلام آباد(رپورٹ، تنویر ہاشمی )سیمنٹ سیکٹر سے متعلق کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں سیمنٹ کی فی بوری قیمت اوسطاً528روپے سے بڑھ کر 1391روپے ہو گئی،ٹیکسوں کا 50فیصد حصہ ،سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے باوجود مقامی کھپت میں کمی ، گٹھ جوڑ کا خطرہ برقرار، نئے سرمایہ کاروں کا داخل ہونا مشکل ، چند بڑی کمپنیوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے ،ملک میں سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں محض طلب و رسد کا نتیجہ نہیں بلکہ بھاری ٹیکسوں، پالیسی کی خامیوں اور مسابقتی مسائل کا مجموعہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیمنٹ کی صارفین کو ملنے والی قیمت کا نصف حصہ مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہے جن میں انکم ٹیکس 29فیصد ، سیلز ٹیکس 18فیصد ، سپرٹیکس 10فیصد اور ایف ای دی سمیت دیگر ٹیکس شامل ہیں ،یہی وجہ ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باوجود سیمنٹ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہی ہیں۔