اسلام آباد(خالد مصطفیٰ) 28 اپریل 2026 کو عالمی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں جب خام تیل کی قیمتوں میں تیزی‘ جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور متحدہ عرب امارات کے اوپیک اور اوپیک پلس سے اخراج کے فیصلے سے ایکویٹی منڈیوں میں بیک وقت فروخت (سیل آف) کی لہر پیداہوگئی جبکہ تیل کی عالمی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں‘تیل کی بڑھتی قیمتوں نے صنعتی لاگت میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا‘سپلائی مینجمنٹ کی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان ہے۔برینٹ کروڈ تقریباً 110.44ڈالر فی بیرل تک جا پہنچاجبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 99.12 ڈالرتک بڑھ گیا۔ دیگر بینچ مارکس میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں مربان کروڈ 107.22 ڈالر‘انڈین باسکٹ تقریباً 110.05ڈالر، اور عرب لائٹ 119.80ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ ایران تنازع سے جڑے سپلائی خطرات، مشرق وسطیٰ کی شپنگ روٹس میں رکاوٹیں، اور عالمی تیل کے نظام میں ساختی تبدیلیاں تھیں۔اس توانائی کے جھٹکے پر اسٹاک مارکیٹوں نے شدید ردِعمل دیا۔ امریکا میں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تقریباً 600 پوائنٹس (تقریباً ایک فیصد) گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں1.3فیصد اورنیسڈیک میں تقریباً1.8فیصدکمی ہوئی۔ ڈاؤ جونز میں 1 اور نیسڈیک میں1.8 فیصد تک کمی،یورپ میں جرمنی کا ڈیکس انڈیکس 2% فرانس کا CAC 40 2% اور برطانیہ کا FTSE 100 1% تک کم ہوا،ایشیا ئی حصص بازاروں میں بھی مندی چھائی رہی، ایس ڈی پی آئی کے سربراہ عابد سلہری نے اماراتی فیصلے کا پس منظر بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یو اے ای کا اختلاف کوٹے پر تھا، امارات روزانہ 4 سے 5 ملین بیرل پیدا کرنا چاہتا ہے جبکہ اوپیک پلس کے تحت اسے تقریباً3ملین بیرل کی اجازت ہے۔