• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ’’اسٹیل انڈسٹری‘‘ شدید بحران کا شکار

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ’’اسٹیل انڈسٹری‘‘ شدید بحران کا شکار، 150 ارب کا ریونیو اور لاکھوں روزگار؛ اسٹیل انڈسٹری ملکی معیشت کے لیے ناگزیر قرار۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی لانگ اسٹیل انڈسٹری، جسے طویل عرصے سے ملکی معیشت کی تزویراتی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا رہا ہے، اس وقت شدید مندی کا شکار ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، طلب میں کمی، بھاری ٹیکسز اور توانائی کے بلند اخراجات نے مل کر اس شعبے کو بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ صنعت، جو سالانہ تقریباً 150 ارب روپے کا ریونیو پیدا کرتی ہے اور 2 لاکھ افراد کو براہ راست ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں بالواسطہ روزگار کے ذرائع کو سہارا دیتی ہے، ملک کی معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم ترین محرک ہے۔ تجزیہ کار اس صنعت کے ’’ملٹی پلائر ایفیکٹ‘‘ (معاشی پھیلاؤ کے اثر) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسٹیل پر خرچ کیا جانے والا ہر 1 ڈالر مزید 2.50 ڈالر کی قدر پیدا کرتا ہے، جبکہ یہ تعمیرات سے لے کر مینوفیکچرنگ تک 45 ذیلی صنعتوں کو متحرک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ان تمام تر صلاحیتوں اور اہمیت کے باوجود، یہ شعبہ اپنی اصل استعداد سے کہیں کم سطح پر کام کر رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید