• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹر بورڈ میں ہنگامہ اور تشدد پر اساتذہ اور ملازمین کا سخت ردعمل، کمیٹی قائم

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعے پر اساتذہ و ملازمین کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سندھ سے فوری اور سخت کارروائی، شفاف تحقیقات اور امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، کراچی ریجن کے صدر پروفیسر آصف منیر اور دیگر رہنماؤں نے بورڈ آفس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ادارے پر نہیں بلکہ تعلیم پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایجنٹ مافیا طویل عرصے سے طلبہ سے بھتہ وصول کرنے اور نقل کے لیے دباؤ ڈالنے میں ملوث ہے، اور امتحانی فارم جمع کرانے کے نام پر غیر حاضر یا بیرون ملک موجود طلبہ کے لیے بھی غیر قانونی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ بورڈ حکام کے انکار پر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سپلا رہنماؤں نے وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سے مطالبہ کیا کہ بورڈ ملازمین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیر کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، سندھ ٹیچرز فورم نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ مافیا طلبہ اور والدین کا استحصال کر رہا ہے اور تعلیمی ماحول کو خراب کر رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق ہنگامہ آرائی سے طلبہ، اساتذہ اور عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے بورڈ آفس میں داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے اور امتحانات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔ ادھر آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن (ایپکا) کے بی آئی ای کراچی یونٹ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی عناصر نے بورڈ ملازمین پر حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے ملازمین پر طلبہ پر حملے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایپکا نے کہا کہ ایسے واقعات سے سرکاری اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے اور ملازمین میں عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ تنظیم نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں اسپیشل سیکریٹری اور چیئرمین ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ شامل ہیں۔ کمیٹی کو تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری میں جھڑپ کی وجوہات، امتحانی فارم جمع کرانے کے طریقہ کار، اور دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ادھر بورڈ ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بورڈ افسران اور ملازمین نے طلبہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایجنٹ مافیا اور بیرونی عناصر نے منظم انداز میں عملے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی ملازمین زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق آن لائن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود بعض عناصر زبردستی فارم جمع کرانے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ تنظیموں اور بورڈ حکام نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ امتحانی عمل شفاف، پرامن اور بلاخوف جاری رکھا جا سکے۔
اہم خبریں سے مزید