کراچی( ثاقب صغیر )دنیا بھر میں فوجی اخراجات 2025 میں بڑھ کر 2887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو سال 2024 کے مقابلے میں 2.9 فیصد زیادہ ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں فوجی اخراجات میں کمی ریکارڈ کی گئی تاہم یورپ میں 14 فیصد اور ایشیا و اوشیانا میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے تین بڑے فوجی اخراجات کرنے والے ممالک امریکہ، چین اور روس نے مجموعی طور پر 1480 ارب ڈالر خرچ کیے جو عالمی اخراجات کا 51 فیصد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر فوجی اخراجات مسلسل گیارویں سال بڑھے ہیں اور جی ڈی پی کے تناسب سے یہ 2.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں جو 2009 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔سال 2025 میں امریکہ کے فوجی اخراجات 954 ارب ڈالر رہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.5 فیصد کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یوکرین کے لیے نئی فوجی امداد کی منظوری نہ ہونا تھی تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے اور آئندہ برسوں میں اخراجات دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں فوجی اخراجات 14 فیصد اضافے کے ساتھ 864 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باعث دونوں ممالک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا۔ روس نے 190 ارب ڈالر جبکہ یوکرین نے 84.1 ارب ڈالر خرچ کیے جو اس کے جی ڈی پی کا 40 فیصد ہے۔یورپی نیٹو ممالک نے مجموعی طور پر 559ارب ڈالر خرچ کیے جن میں سے 22 ممالک نے جی ڈی پی کا کم از کم 2 فیصد دفاع پر خرچ کیا ۔جرمنی نے 24 فیصد اضافے کیساتھ 114ارب ڈالر جبکہ اسپین نے50 فیصد اضافے کے ساتھ 40.2ارب ڈالر خرچ کیے۔