اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو رکوانے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو دوام حاصل ہوگیا ہے، یہ جنگ بندی اس وقت معرض وجود میں آئی جب جارج سپریم کمانڈو ایران کی پوری تہذیبی کو ملیامیٹ کرنے پر اتر چکا تھا، جنگ/ دی نیوز کو حد درجہ قابل اعتماد ذرائع نے منگل کی شب بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پس چلمن جاری سفارت کاری اور پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کی وساطت سے ہورہا ہے، جس نے انہیں بے حد مصروف کر رکھا ہے۔ گزشہ دو ماہ میں جس احتیاط، رواداری اور ژرف نگاہی سے پھیلاتا مارشل سید عاصم منیر نے خطے کو عالمی جنگ کا دھانہ بنے سے روکنے کے لئے اپنی راتوں کی نیند اور دن کا آرام لگا رکھا ہے، اسے آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور تک کے بندوبست اور انتظام کے حوالے سے پاکستان کی حیثیت سہولت کار کی تھی، اب جبکہ بظاہر اسلام آباد میں مذاکرات کی مجلس کا انعقاد دکھائی نہیں دے رہا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اب مذاکرات کار اور ثالث کا بلند تر درجہ حاصل ہوگیا ہے جو بلاشبہ پاکستان کے لئے پہلے سے بڑا اعزاز ہے۔