کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں کوئی کسی کے تابع نہیں۔ یہ .تبادلے سزا نہیں ،جج کے تبادلے کا حق انتظامیہ کے پاس نہیں جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں کوئی فیصلہ آئین و قانون کے خلاف نہیں ہوا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں کوئی کسی کے تابع نہیں ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک جج آجاتا ہے تو اس کی روٹیشن نہیں ہوتی۔ بار کونسلز کا مطالبہ تھا کہ ججز کی روٹیشن کی جائے۔ جسٹس بابر ستار کا تحریری موقف جوڈیشل کمیشن کے سامنے آگیا تھا۔ جج کے تبادلے کا حق انتظامیہ کے پاس نہیں جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے۔ چیف جسٹس اجلاس بلانے کے حق میں نہ ہوتے تو اجلاس میں نہ بیٹھتے۔ یہ بہت غلط تاثر دیا جارہا ہے آئین کے آرٹیکل دو سو کے تحت اور 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن پاکستان میں اکثریتی یہ چیزیں ڈیسائیڈ کی گئیں۔ دو چیف جسٹس ہیں ایک سپریم کورٹ کے ایک آئینی عدالت کے پانچ سنیئر ججز ہیں اور مجموعی طور رپ سات ججز ہیں اور اپوزیشن کے دو اراکین بھی شامل ہیں تو کوئی کسی کے تابع نہیں ہے۔ آئین و قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔