اسلام آباد (طاہر خلیل )قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے اعلان کیا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے آئندہ دو ماہ کے اندر رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اہم اصلاحات نافذ کی جائیں گی جس کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی‘اصلاحات کے بعد فائل سسٹم کا خاتمہ ہو جائے گا‘پاکستان میں بدعنوانی سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈکی ڈائیگناسٹک رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے‘مالیاتی فنڈ کبھی بھی آپ کو کلین چٹ نہیں دے گا‘آئی ایم ایف ‘ورلڈبینک اورٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ایک ٹرائیکا بنایا ہے‘ جو ملک پسند نہیں یہ ان کے خلاف ماحول بناتے ہیں‘ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہاں سے فنڈنگ لیتی ہے ‘آٹھ سو بندوں سے کیسے پورے ملک کا سروے کرلیتی ہے ‘ارکان پارلیمنٹ کے خلاف اب بھی کیسز چل رہے ہیں مگر اب ہم پریس ریلیز جاری نہیں کرتے‘اپنے عہدے کی میعاد میں توسیع کے لیے کسی سے درخواست نہیں کی ‘ یہ حکومت کا فیصلہ ہے‘ میرا آئی ایم ایف پرسے اعتماد اٹھ گیا، ان کو ہم نے بہت جگہ دی‘ وہ اب بیڈ روم تک آرہا ہے‘آپ آئی ایم ایف کو گھر میں گھسنے دیں گے تو وہ یہی کریگا‘ عالمی مالیاتی فنڈمیرے ملک کے خلاف کام کر رہا ہے‘جس ملک کی امریکا سے نہیں بنتی آئی ایم ایف اس کی ریٹنگ گرا دیتا ہے۔بدھ کو قومی احتساب بیوروہیڈ آفس میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ تین ماہ میں نیب نے جو ریکوری کی دنیا میں کسی نے نہیں کی‘سال 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 2,962ارب روپے کی ریکوری کی گئی‘ چیئرمین نیب نے سوال کیا کہ کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل غیر سیاسی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ ریکورکی گئی رقم میں سے نیب کچھ نہیں رکھتا‘پورا پیسہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرواتا ہے‘ماضی میں نیب جو کرتا رہا موجودہ نیب اس سے اتفاق نہیں کرتا۔اس موقع پر نیب کے ڈی جی آپریشن امجد اولکھا نے ادارے کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ سال 2026 کے پہلے تین مہینوں کے دوران نیب نے مجموعی طور پر 2,962 ارب روپے کی ریکوری کی ہے‘نیب لاہور اور ملتان نے اپنی مشترکہ کاوشوں سے 23.33 ارب روپے مالیت کی 4,034 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی، جبکہ نیب کراچی اور سکھر نے 2,891.38 ارب روپے مالیت کی 54,387 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروائی ۔ اسی عرصے میں نیب بلوچستان نے بھی 36.54 ارب روپے مالیت کی 51,577 ایکڑ سرکاری زمین سرکاری تحویل میں واپس کی۔ ان سرکاری زمینوں کے علاوہ نیب نے پلی بارگین، نیلامی اور عدالتی جرمانوں کی مد میں 11.085 ارب روپے کی براہِ راست ریکوری بھی کی۔ مزید برآں، عوام کو دھوکہ دہی کے کیسز میں 6,475 متاثرین کو 1.78 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم واپس کی گئی۔