پشاور ( لیڈی رپورٹر)گزشتہ دو ماہ سے پشاور سمیت صوبہ بھر میں سی این جی سٹیشنز کی مسلسل بندش کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان، پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 600 سے زائد سی این جی سٹیشنز کو غیر قانونی طور پر بند کیا گیا ہے۔اگر تین دن کے اندر سی این جی اسٹیشنز نہ کھولے گئے تو جماعت اسلامی صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرے گی ا نہوں نے کہا کہ صوبے میں تقریباً 5لاکھ گاڑیاں سی این جی پر انحصار کرتی ہیں، جن میں 80 فیصد کمرشل گاڑیاں شامل ہیں، جیسے ٹیکسی، رکشے، فلائنگ کوچز، بسیں اور ٹرک وغیرہ ان گاڑیوں اور 600 سی این جی سٹیشنز سے وابستہ تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد کے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ ان کے ہمراہ ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈووکیٹ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات نورالواحد جدون اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری سمیع اللہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں قدرتی گیس کی یومیہ پیداوار 550 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ صوبے کی ضرورت 120 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اسی طرح 600 سی این جی اسٹیشنز کی مجموعی یومیہ کھپت 45 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جو تقریباً 15 لاکھ لیٹر پٹرول کے برابر ہے۔ اس طرح سی این جی سیکٹر نہ صرف پیٹرول کی بچت کرتا ہے بلکہ ملک کے امپورٹ بل میں ماہانہ تقریباً 4 ارب روپے کی کمی لاتا ہے، جبکہ یہ شعبہ سالانہ اربوں روپے ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے گیس پیدا ہوتی ہے، اس پر پہلا حق اسی صوبے کا ہوتا ہے، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کا حکم امتناعی بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود سی این جی اسٹیشنز کی بندش غیر آئینی اقدام ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت ایران امریکہ کشیدگی کو جواز بنا کر خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کئے ہوئے ہے، جبکہ صوبے کی اضافی گیس پنجاب سمیت دیگر علاقوں کو فراہم کی جا رہی ہے، جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔