• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی 118 ڈالر ہوگئی

اسلام آباد(خالد مصطفیٰ) عالمی مالیاتی منڈیوں میں 29اپریل 2026کو محتاط اور دفاعی رجحان دیکھنے میں آیا، جب خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی—جو آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہوئی—نے بڑی معیشتوں میں مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 118.41 ڈالر ( 6.43 فیصد)ہوگئی، جبکہویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 106.53 ڈالر ( 6.60 فیصد) تک پہنچ گیا۔ ریفائن شدہ مصنوعات بھی مہنگی ہو گئیں، پٹرول 3.717 ڈالر ( 4.40 فیصد) اور ہیٹنگ آئل 4.212 ڈالر ( 6.06 فیصد) پر جا پہنچا۔ اس توانائی جھٹکے نے عالمی اسٹاک مارکیٹس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: توانائی سے متعلق شعبوں میں اضافہ جبکہ دیگر شعبے دباؤ کا شکار رہے۔امریکہ میں اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ رہا اور مجموعی طور پر معمولی مندی دیکھی گئی۔ توانائی کمپنیوں کے حصص میں تیزی آئی، مگر ٹیکنالوجی اور صارفین سے متعلق شعبے کمزور رہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں شرح سود میں کمی کو مؤخر کر سکتی ہیں۔یورپ میں بھی عمومی مندی رہی۔ برطانیہ میں درآمدی توانائی کی بڑھتی لاگت نے کاروباری منافع اور صارفین کے اخراجات پر دباؤ ڈالا، جبکہ جرمنی کی صنعتی معیشت توانائی کی مہنگی لاگت سے زیادہ متاثر ہوئی۔ فرانس میں بھی مہنگائی کے خدشات کے باعث مارکیٹ نیچے رہی۔ایشیا میں ملے جلے رجحانات دیکھے گئے۔ چین کی مارکیٹ تقریباً مستحکم رہی، جہاں حکومتی پالیسی سپورٹ کی توقعات نے دباؤ کو متوازن کیا۔ جاپان میں ین کی کمزوری کے باعث درآمدی توانائی مہنگی ہو گئی، جس سے مارکیٹ پر دباؤ آیا، جبکہ جنوبی کوریا میں معمولی منفی رجحان رہا۔جنوبی ایشیا میں بھارت کی اسٹاک مارکیٹ منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئی، کیونکہ درآمدی تیل کی قیمت بڑھ کر 112.83 ڈالر ( 2.53 فیصد) ہو گئی، جس سے مہنگائی، سبسڈی اور مالی دباؤ کے خدشات بڑھے۔ پاکستان کی مارکیٹ بھی محتاط رہی، جہاں ایل این جی کی بڑھتی قیمتیں، کرنسی دباؤ اور توانائی کی قلت سرمایہ کاروں کی تشویش کا باعث بنیں۔دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی ملا جلا مگر محتاط رجحان رہا۔

اہم خبریں سے مزید