کراچی (رفیق مانگٹ) قومی سلامتی یا ازادی رائے میں کون بڑا؟ فیصلہ کن معرکہ امریکی عدالت میں، نچلی عدالت نے صحافیوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا، وفاقی اپیل کورٹ نے پینٹاگون کو عارضی ریلیف دے دیا،پینٹاگون اور صحافی آمنے سامنے... رسائی پر قانونی جنگ شدت اختیار کر گئی۔نچلی عدالت صحافیوں کے حق میں، اپیل کورٹ نے پینٹاگون کو عارضی ریلیف دے دیاکیس جاری،دلائل، شواہد اور آئینی نکات پر تفصیلی سماعت کے بعد حتمی فیصلہ متوقع، پینٹاگون صحافیوں پر عارضی نگرانی لازمی قرار دینے کا مجاز،وفاقی اپیل کورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع عمارت کے اندر صحافیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ایک اہم عدالتی پیش رفت کے تحت وفاقی اپیل عدالت نے امریکی محکمۂ دفاع کو عارضی طور پر یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ عمارت کے اندر صحافیوں کی نقل و حرکت کے دوران ان کے ساتھ لازمی سکیورٹی اہلکار (ایسکارٹ) تعینات کرے۔ عدالت نے آخری فیصلہ نہیں دیا،صرف یہ کہا ہے کہ جب تک کیس مکمل نہیں ہوتا، تب تک پینٹاگون اپنی پالیسی عارضی طور پر جاری رکھ سکتا ہے. ابھی دلائل، شواہد، آئینی نکات پر تفصیلی بحث ہوگی.اس کے بعد حتمی فیصلہ آئے گا. پینٹاگون اور اخبار نیو یارک ٹائمز کے درمیان میڈیا رسائی کی حدود پر قانونی جنگ جاری ہے. اخبار کےمطابق امریکی وفاقی اپیل عدالت برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پینٹاگون کے اندر صحافیوں کے لیے عارضی طور پر ایسکارٹ لازمی قرار دے سکتا ہے، جو کہ ادارے کی جانب سے میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ اقدام اس وقت تک نافذ العمل رہ سکتا ہے جب تک پینٹاگون ان عدالتی فیصلوں کے خلاف اپنی قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جن میں اس کی سابقہ پالیسیوں کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔ ان پالیسیوں میں صحافیوں کی سرگرمیوں اور رسائی پر پابندیاں شامل تھیں۔ محکمۂ دفاع کا مؤقف ہے کہ عمارت تک براہ راست رسائی حکومت کی جانب سے دیا گیا ایک استحقاق ہے، اور اسے شفافیت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے، خاص طور پر حساس معلومات کے غیر مجاز انکشاف کو روکنے کے لیے۔ پینٹاگون نے بعض صحافتی سرگرمیوں کو غیر قانونی معلومات کے حصول کے مترادف بھی قرار دیا۔