کراچی (نیوز ڈیسک) برطانیہ کے دور ے پر موجود شاہ چارلس سوم اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سرکاری عشائیے میں نوک جھونک ہوئی ہے ، اپنی تقریر میں شاہ چارلس نے اٹھارویں صدی میں شمالی امریکا پر قبضے کے لئے برطانیہ اور فرانس کے درمیان ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئےازراہ مذاق کہا کہ "اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو پرانے بیان پر جواب دیتے ہوئےکہا واقعی آپ نےکہا اگرامریکا نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن بول رہے ہوتےمیں کہتا ہوں اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے۔صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکا دوسری عالمی جنگ میں مداخلت نہ کرتا تو آج یورپی ممالک کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔ امریکی صدر نے دعوی کیا کہ بادشاہ چارلس ہم سے بھی زیادہ ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے دینے کے مؤقف سے متفق ہیں۔بکنگھم پیلس نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے شاہ چارلس کو ایران تنازع میں گھسیٹیں۔ شاہی محل کا کہنا تھا بادشاہ جوہری پھیلاؤ روکنے کے حکومتی مؤقف سے آگاہ ہیں۔