• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پر پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی پھر بھی ترقیاتی کام نظر نہیں آتے

لاہور (نسیم قریشی) لاہور میں میڈیا ٹاک کے دوران مرتضیٰ وہاب کو لاہور کےصحافیوں کی جانب سے سخت اور تلخ سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، سب سے پہلا سوال کیا گیا کہ لاہور آ کر آپ کو کیا انفرادیت نظر آئی جو آپ کراچی میں بھی دیکھنا چاہیں گے، کیونکہ کراچی تو مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لاہور ایک سرسبز اور زندہ دل لوگوں کا شہر ہے۔ یہاں کی ہریالی، درخت اور خوبصورت ماحول انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ ایسی سرسبزی پورے پاکستان میں ہو۔اسکے بعد سوال کیا گیا کہ کیا آپ لاہور کا واٹر سسٹم کراچی میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، کیونکہ کراچی میں پانی بحران اور سیوریج مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ واسا کے ساتھ ایم او یو سائن کرنے کا مقصد نالج اور ایکسپرٹیز کا تبادلہ ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں بھی پانی کی ٹریٹمنٹ اور ڈسپوزل کے لیے جدید منصوبوں پر کام جاری ہے اور دونوں شہر ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔صحافیوں نے مزید سوال کیا کہ لاہور کی سڑکیں بارش کے چند گھنٹوں میں صاف ہو جاتی ہیں، کیا کراچی میں یہ ممکن ہے یا وہاں ہر بارش شہر کو ڈبو دیتی ہے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں بھی بارش کے بعد نکاسی آب کا عمل دو سے 3 گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے، تاہم یہ میڈیا پر منحصر ہے کہ وہ کیا دکھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ایک سخت سوال میں پوچھا گیا کہ پی پی پی طویل عرصے سے کراچی میں حکمران ہے، پھر بھی ترقیاتی کام کیوں نظر نہیں آتے، شہر بدحالی کا شکار کیوں ہے؟ اس پر میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی اور لاہور کے مسائل مختلف نوعیت کے ہیں، اس لیے دونوں شہروں کا موازنہ مناسب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 60 ارب روپے کے رنگ روڈ منصوبے سمیت متعدد ترقیاتی کام جاری ہیں اور میڈیا کو شہر کا مثبت رخ بھی دکھانا چاہیے۔مزید سوال کیا گیا کہ "کراچی میں پانی اور سیوریج کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، پھر بھی کیا آپ واٹر ٹیرف بڑھا کر عوام پر مزید بوجھ ڈالنے جا رہے ہیں؟" مرتضیٰ وہاب نے جواب دیا کہ کوئی بھی ادارہ ریونیو کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اگرچہ کراچی میں ٹیرف نہیں بڑھایا گیا، تاہم گزشتہ تین برسوں میں آمدنی تین گنا بڑھائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو مالی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔آخر میں سوال کیا گیا کہ کراچی میں سیکورٹی کے مسائل، اسٹریٹ کرائم اور گٹر کے کھلے ڈھکنوں سے ہونے والی اموات پر آپ کی حکومت کیا جواب دے گی؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی اب انٹرنیشنل کرائم انڈیکس میں کافی نیچے آ چکا ہے اور حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چوری شدہ ڈھکنوں کے متبادل لگائے جا رہے ہیں جبکہ پانی چوری کی روک تھام کے لیے کراچی واٹر ٹریبونل قائم کیا گیا ہے تاکہ مقدمات کا فوری فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔

اہم خبریں سے مزید