تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک) ایران کے پاسداران انقلاب نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا،ناکہ بندی کے خاتمے سمیت تمام معاملات 30دن کے اندرحل ہونے چاہئیں،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے اس کی 14نکاتی تجویز کا جواب دے دیا ہے جس کا جائزہ لیاجارہاہے ،اس مرحلے پر ہم کوئی جوہری مذاکرات نہیں کر رہے ہیں۔ ایران کا 14نکاتی منصوبہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نےخبردارہے کیا کہ ایرانی افواج امریکی جہازوں کو ڈبو دیں گی۔اپنے طیارہ بردار جہازوں اور افواج کے قبرستان کے لیے تیار ہو جائیںجبکہ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تسلسل کے لیے واشنگٹن کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی، مذاکرات میں پاکستان بدستورمرکزی ثالث کا کردار اداکررہاہے ، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نےکہاہےکہ نئے مجوزہ قانون کے تحت امریکی واسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی،جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوںنے ایران سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کا مطالبہ کیا ہے۔امریکا کے صدرڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ آج سے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کا عمل شروع کرینگے،ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکا کی بہتری کیلئے ان ممالک کے جہازوں کو باحفاظت باہر نکالیں گے جن کا مشر ق وسطیٰ تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں تاکہ وہ آسانی سے اپنا بزنس کرسکیں، انہوں نے کہا کہ یہ سب انسانی ہمدردی پر ہوگا ، انہوں نے کہا کہ امریکی حکام مشرق وسطیٰ کو درہم برہم کرنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات پر ایران کے ساتھ "انتہائی مثبت بات چیت" کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا، "میں اس بات سے پوری طرح باخبر ہوں کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ انتہائی مثبت بات چیت کر رہے ہیں، یہ مذاکرات سب کے لئے بہت سود مند نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔"قبل ازیں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لوں گا تاہم اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتا، اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے، ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی جتنی بنتی ہے ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کی کوشش کا آغاز کرے گا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران نے نئی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیدیا ہے ۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے ہر چیز کا جائزہ لے لیا ہے یہ ناقابل قبول ہیں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی صدر ہزروق سے مطالبہ کیا کہ وہ کرپشن کیس میں ملوث نیتن یاہو کے لئے معافی کا اعلان کریں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نےدعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ہرمزبند کی ناکہ بندی کرکے ایرانی قیادت کادم گھونٹ دیاہے ،تہران کو بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس لینے کی کوششوں کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہو رہا،تنازع کے ختم ہونے پر تیل کی قیمتیں کافی کم ہو جائیں گی۔ ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکا بھجوا دیے ہیںجبکہ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا ہے کہ اتوار کو ایران کے علاقے سیریک سے تقریباً11ناٹیکل میل مغرب میں شمال کی جانب سفر کے دوران ایک مال بردار بحری جہاز پر متعدد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملہ کیا گیاہےتاہم عملے کے ارکان محفوظ ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیغام میں لکھا کہ ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی جبکہ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انہیں فراہم کیا جانا ہے۔پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس یونٹ نے ایک بیان میں کہاہےکہ امریکا کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں۔ تہران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔ تاہم اس ڈیڈلائن کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔ تسنیم کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات30دن کے اندر حل ہونے چاہئیں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہونی چاہیے،ایرانی تجاویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا،بحری ناکہ بندی کا خاتمہ،منجمد اثاثوں کی بحالی، نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی،ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکا کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔ایران کی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔