• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکسٹائل انڈسٹری نے مالی سال 2026-27 کیلئے بجٹ تجاویز پیش کر دیں

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) ٹیکسٹائل انڈسٹری نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنی بجٹ تجاویز پیش کر دی ہیں، جن میں برآمدی شعبے، بالخصوص ٹیکسٹائل کی عالمی مسابقت کو بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس کٹوتیوں، ٹیرف کو معقول بنانے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس کے حوالے سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ’’سپر ٹیکس‘‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، اسے غیر منصفانہ اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں کے منافع کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے ’’منیمم ٹرن اوور ٹیکس‘‘ کو بھی 1.25 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، ان کا موقف ہے کہ موجودہ شرح اس شعبے پر ناقابل برداشت بوجھ ہے جو پہلے ہی 1 فیصد سے 2فیصد کے انتہائی کم منافع پر کام کر رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کارپوریٹ انکم ٹیکس میں سالانہ 1 فیصد مرحلہ وار کمی کی سفارش بھی کی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس کی شرح کو علاقائی حریف ممالک کے برابر لانا ہے۔ اپٹما نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی موجودہ شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے، جو برآمدات کی عالمی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید