کراچی(سید محمد عسکری) میرپور خاص تعلیمی بورڈ کے ناظم امتحانات انور علیم خانزادہ کی محکمہ انٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد تحقیقات سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز تک پھیل گئی ہے جب کہ محکمہ بورڈز و جامعات اینڈ بورڈ کے سیکریٹری سمیت 6افسران اور متعلقہ محکمہ وزیر کے پی ایس کو بھی اینٹی کرپشن نے طلب کرلیاہے اور ان سے متعلقہ ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے ۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے انسپکٹر دلیپ کمار کی جانب سے سندھ کے تعلیمی بورڈز کے حاضر سروس چئیرمین، کنٹرولرز اور حاضر سروس افسران کو مختلف الزامات کے ساتھ طلبی کے خطوط بھیجے گئے ہیں اس کے علاوہ میرپور خاص بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ثمر رضا تالپور، سابق چیئرمین برکات علی حیدری، سابق چیئرمین ذوالفقار علی شاہ، ڈپٹی سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ ڈپارٹمنٹ فرحان اختر، اعجاز اِن آفس سیکریٹری، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اور پرسنل سیکریٹری برائے وزیر جامعات و بورڈز نعیم قریشی شامل ہیں جبکہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے ریکارڈ کے سلسلے میں سیکریٹری محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز بھی عباس بلوچ سے ریکارڈ مانگا گیا ہے۔ ڈپٹی سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ فرحان اختر کو لکھے گئے نوٹس میں محکمہ اینٹی کرپشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انور علیم خانزادہ سے جاری تحقیقات میں ان کا نام بھی بورڈ میں پوسٹنگ اور انتظامی امور کے حوالے سے سامنے آیا ہے لہٰذا حقیقت جاننے کے لیے ان کا پیش ہونا بھی ضروری ہے لہٰذا وہ بھی تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہوکر اس عرصے کے دوران بورڈ میں ٹرانسفر پوسٹنگ کے حوالے سے اپنے کردار کی وضاحت کریں۔ وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے پرسنل سیکریٹری نعیم قریشی کو لکھے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے انور علیم خانزادہ سے کی گئی تحقیقات میں ان کا نام بھی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے سلسلے میں مراعات کے طور پر غیر قانونی ادائیگیوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے لہٰذا وہ بھی تحقیقاتی افسر کے سامنے پیش ہوں۔ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ عباس بلوچ کو موصولہ نوٹس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ انور علیم خانزادہ کس طرح سال 2016 سے تاحال میرپورخاص بورڈ، حیدرآباد بورڈ اور کراچ انٹرمیڈیٹ بورڈ میں اہم اسامیوں (سیکریٹری اور ناظم امتحانات) کے طور پر تعینات رہے۔ وہ 7 روز میں اس بات کا ریکارڈ اور قانونی و انتظامی جواز فراہم کریں کہ کیسے ایک ہی شخص مسلسل انتہائی اہم اسامیوں پر مسلسل تعینات رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کراچی کے تعلیمی بورڈز کے چیرمین، کنٹرولرز اور سکریٹریز کو محکمہ اینٹی کرپشن کے خطوط 30 اپریل کی شام کو ملے جب کہ انھیں 30 اپریل کو ہی طلب کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ تعلیمی بورڈز کے کنٹرولبگ اتھارٹی جب تک گورنر سندھ کے پاس تھی صورتحال بہتر تھی اور تمام اہم عہدوں پر مستقل اور میرٹ پر تعیناتیاں ہوتی تھیں تاہم جب تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلیٰ/ وزیر کو منتقل ہوئی تو بورڈز میں ایڈھاک ازم شروع ہوگیا اور اس وقت سندھ کے کسی ایک بورڈ میں بھی مستقل کنٹرولر، سکریٹری اور آڈٹ افسر موجود نہیں جب کہ کئی برس بعد 2025 کو بمشکل مستقل چیرمین کا تقرر ممکن ہوسکا تھا۔ صرف میٹرک بورڈ کراچی میں ایک برس میں چار کنٹرولر لگائے گئے۔