کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر آزادی صحافت کے عالمی دن کے سلسلے میں اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، جس سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد رند ، صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید ، سنیئر نائب صدر پی ایف یو جے نورالہی بگٹی ، جنرل سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین اور سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے رہنماء بہرام لہڑی نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت کو مشکل بنادیا گیا ہے ، پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا بھی ناممکن ہوگیا ہے ، بلوچستان میں صحافی سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے سچ بولنا ناممکن بنادیا گیا ہے اور بدقسمتی سے یہ کام جمہوریت کے دعویدار ان سیاسی جماعتوں نے کیا جو اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ آزادی صحافت کے دعوے کرتی تھیں ۔ مقررین نے کہا کہ صحافتی تنظیمیں جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کا خاتمہ چاہتی ہیں مگر اس کی آڑ میں جو ایکٹ لایا گیا ہے اس کے ذریعے سچ کو دبا دیا گیا مقررین نے کہا کہ ایکٹ واپس لیکر پی ایف یو جے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پیکا ایکٹ پر نظرثانی کی اور آزادی صحافت پر پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ کوئٹہ میں ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز کو بند نہ کیا جائے اور جن ٹی وی چینلز کے دفاتر بند کیئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر بحال کرکے وہاں سے نکالے گئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں پر بحال کیا جائے ، صحافیوں کے روزگار کو تحفظ فراہم اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔