اسلام آباد(پ ر)جمعیت علماءاسلام کے رہنما رکن قومی اسمبلی انجینئر حاجی عثمان بادینی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو تجربہ گاہ بنانے کی بجائے عوام و صوبے کی مشکلات کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ بلوچستان پولیس کی صوبے میں قیام امن کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں ہیں۔ ایسے فیصلے نہ کئے جائیں جن سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو۔ایک بیان میں انہوں کہا کہ صوبے بھر میں پولیس کی ایک ضلع سے دوسرے ضلع ٹرانسفر کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے، ہم ایسے عمل کی مخالفت نہیں کرتے کیونکہ یہ سرکاری سروس کا حصہ ہے مگر یہاں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جتنے بھی اہلکار ٹرانسفر کئے جارہے ہیں وہ تمام سپاہی ہیں ان میں کوئی بھی اعلیٰ افسر نہیں، اگرکسی سپاہی کواپنے ضلع سے کسی اور ضلع ٹرانسفر کرنا مقصود ہے تو پھر ان کی تنخواہیں بھی ڈی پی او کے برابر کردی جائیں۔تنخواہ وہ تحصیل کی سطح کی لے اور کام اس سے ڈی پی او کے کرائے جائیں یہ فیصلہ غریب صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی کا اہلکار کوہلو ،خاران کا لورالائی اور چاغی کا خاران جانے کیلئے تیار ہے مگر اس کے ساتھ ایک ڈی پی او کو جو تنخواہ و مراعات مل رہی ہیں تو پھر وہ اس کو بھی دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی فلور پر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں ضلع کی سطح پر پولیس اہلکاروں کیلئے ایک ہسپتال اور ہاؤسنگ اسکیم بنائی جائے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ بلوچستان پولیس نے قربانیاں دیں، کیا ضروری ہے کہ کوئی واقعہ پیش آئے اور شہادت کے بعد ہی اس اہلکار کے لواحقین کو مراعات دی جائیں کیا حاضر سروس ملازمین کو مراعات کا حق حاصل نہیں۔