کراچی (ٹی وی رپورٹ) سینئر صحافی و تجزیہ کاروں طاہر خان، افتخار فردوس اور احسان ٹیپو محسود نے کہا ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی روابط اور مکالمہ جاری رہنا چاہئے، بھارت ، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ وہ جیو نیوز کے ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کے قیام پر پاکستان میں خوشی کا اظہار کیا گیا، دونوں کے مابین دوستی کی داستانیں عالمی سطح پر مشہور تھیں، مگر حالات بتدریج کشیدگی اور تصادم تک کیسے جا پہنچے؟ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ پاک،افغان تعلقات میں پائی جانے والی بداعتمادی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے، افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے کیوں گریزاں ہے، اور سرحدی جھڑپوں و دراندازی جیسے مسائل کا پائیدار حل کیا ہو سکتا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار طاہر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، ویزا امور اور سفارتی روابط زیربحث رہتے تھے، اگرچہ ان معاملات پر اختلافات بھی موجود تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں سرحدی حملے اور جھڑپیں معمول بن چکی ہیں اور مثبت معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اگر پاکستان کی صبر و تحمل پر مبنی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے تو افغانستان کو اس کے اسباب پر غور کرنا ہوگا۔ پاکستان کے تحفظات حقیقی ہیں اور افغان حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ آیا پاکستان کے اعتراضات بے بنیاد ہیں یا نہیں۔ اس مسئلے کا حل بنیادی طور پر افغان حکومت کے ہاتھ میں ہے، تاہم فی الحال دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں۔ ثالثی کی کوششیں بھی اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں، اگرچہ افغان وزیر خارجہ کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیئے گئے ہیں۔