کراچی (رفیق مانگٹ) پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات نہیں ہوگی، کارروائیاں جاری رہیں گی، بھارت انکی مالی معاونت اور افغانستان پناہ دے رہا ہے، ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ درست ہے۔ جبکہ دہشت گردوں کے حملے پاک امریکا اربوں ڈالر کے معدنیاتی معاہدے کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے یہ ایک فیصلہ کن چیلنج ہے،جو پورے منصوبے کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کر سکتا ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان نے بتایا طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کر سکتے، امریکی اخبار کے مطابق پاکستان میں جاری بلوچ شورش امریکی معدنیاتی مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے، جہاں بی ایل اے کے حملے حکومتِ پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اربوں ڈالر کے مجوزہ معدنیاتی معاہدے کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کو مسترد کر دیا.پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کر رہا ہے جبکہ افغانستان انہیں پناہ فراہم کر رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ محض طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق تشدد نے ہمیں صرف خونریزی اور پسماندگی دی ہے۔انہوں نے مزید کہاہم بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کر سکتے. رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اوول آفس میں ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو معدنیات اور قیمتی پتھروں سے بھرا ایک ڈبہ پیش کیا، جو اس بات کی علامت تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر سکتی ہیں. بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے بلوچستان میں 3 کھرب 62 ارب روپےکے(1.3 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جو سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کا حامل خطہ ہے۔ تاہم یہ امریکی سرمایہ کاری جنوبی ایشیا کی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے سے ٹکرا رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بی ایل اے نے سیکڑوں جدید نوعیت کے حملے کیے پاکستانی حکام نے ان حملوں کو کم اہمیت دی. ان حملوں میں بلوچستان کے سب سے بڑے معدنیاتی منصوبے رکوڈک جانے والی سڑک بھی نشانہ بنی، جس سے وہاں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ یہ منصوبہ دنیا کے بڑے غیر استعمال شدہ تانبہ اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور اسے امریکی-پاکستانی شراکت داری کا مرکزی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔