تہران /دبئی (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) خلیج میں امریکا اورایران کے ایک دوسرے پر پھر حملے ‘دنیا خوفزدہ ‘تنازع میں شدت کا خطرہ بڑھ گیا ‘ امریکی فوج نے بتایاہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے کے صدرٹرمپ کے آپریشن ’’پروجیکٹ فریڈم ‘‘کے تحت اس کے دو گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز ایرانی ناکہ بندی توڑنے کے لیے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ دو امریکی تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم ایران نے اس دعوے کوغلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر ہرمز سے نہیں گزراجبکہ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ہرمزمیں امریکی جنگی جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے کروز میزائل‘ راکٹ اور جنگی ڈرون فائر کیے گئے ہیں‘سینئرایرانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اگر امریکی آبنائے ہرمز میں آگے بڑھے تو انہیں نشانہ بنایا جائے گاجبکہ ایران کی متحدہ فوجی کمان کے سربراہ اورخاتم الانبیاءسینٹرل ہیڈ کوارٹرزکے کمانڈرمیجرجنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحریہ اور اس کے جہاز آبنائے ہرمز سے دور رہیں۔ دوسری جانب سینٹرل کمانڈ سربراہ ایڈمرل بریڈکوپر نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے کروز میزائلوں کے ذریعے تجارتی اور امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے‘انہوں نے دعویٰ کیاکہ امریکی بحریہ نے ایران کی6 چھوٹی کشتیاں تباہ کر دی ہیں تاہم تہران نے اس دعوے کی تردیدکی ہے ‘ صدرٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کے تحت گزرنے والے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو اسے نقشے سے مٹا دیا جائے گا‘امریکی جنگی جہازکو نشانہ بنانے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر115ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی ہے ‘ ادھر متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیاہے کہ پیرکو ایران کی جانب سے 12بیلسٹک ‘تین کروز میزائل اورچار ڈرونزفائر کئے گئے ہیں ۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں فجیرہ بندرگاہ پر آئل کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیںجبکہ امارات کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک سے وابستہ ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز میں بھی دھماکا ہوا اورآگ بھڑک اٹھی ‘یہ جہاز امارات کے قریب سمندری حدود میں لنگر انداز تھا۔حملوں کے بعد امارات میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ 8مئی تک بند جبکہ امارات جانیوالی متعدد پروازوں کا رخ مسقط کی جانب موڑ دیا گیا ہے ‘ ادھر شمالی عمان میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سےدوغیر ملکی زخمی ہوئےہیں‘ ایران کے سینئر فوجی عہدیدار کے مطابق تہران کا عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول اور خودمختاری کے خلاف ہے‘ امارات ان حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتاہے ،جس پر ایرانی فوجی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر امارات نے کوئی غیردانشمندانہ قدم اٹھایا تو اس کے تمام مفادات ایران کا ہدف بن جائیں گے‘ اسرائیل کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی میزائل گرائے جانے کے بعد فوج ہائی الرٹ پرہے جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں‘یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے امارات پر ہونے والے ایرانی حملوں کو خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔