کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی کے تنازعے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، واٹر کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنر سے تفصیلات طلب کرلیں، درخواست کی سماعت پر اسسٹنٹ کمشنر اور ٹی ایم سی لیاری پیش ہوئے، واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ واٹر کارپوریشن پمپس کے ذریعے علاقے کو پانی سپلائی کرتا ہے، ناظر رپورٹ بھی واٹر کارپوریشن کے موقف کی تصدیق کرتی ہے، ٹاؤن چیئرمین کی رپورٹ کے مطابق اس جگہ پر کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہورہی ہے، درخواست گزار کی جانب سے پارک کے لئے عزیر بلوچ کے نام کی تختی کے شواہد پیش کئے گئے، واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ عزیر بلوچ کے پارک ڈکلیئر کرنے سے جگہ پارک کی نہیں ہوجاتی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اراضی واٹر کارپوریشن کی ہے؟ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کے پاس ٹائٹل دستاویز نہیں ہے، وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس تو ہیڈ آفس کی بھی ٹائٹل دستاویز نہیں ہے، جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ پھر تو آپ سے وہ جگہ بھی لے لینی چاہیئے۔ واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار سے پوچھا جائے بغیر دستاویز کیسے دعویٰ کررہے کہ پارک ہے؟ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسی بات ہے تو ہم آج ہی تمام کام روک دیں گے، جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بتایا جائے کہ زمین کس کی ہے؟ ٹی ایم سی کے وکیل نے کہا کہ اصل اراضی تو سندھ حکومت کی ملکیت ہے۔