• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ، جماعت اسلامی کی پٹیشن، سالڈ ویسٹ بورڈ ختم کرنیکا مطالبہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ و ٹاؤن چیئرمینوں نے شہر میں صفائی ستھرائی اور کچرا اُٹھانے کے ناقص نظا م اور اس حوالے سے شہر کی ابتر صورتحال کی بہتری، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کیخلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کردی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیاہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو فوری طور پر ختم کیا جائے، اسکے اختیارات اور وسائل اور شہر میں صفائی و کچرا اُٹھانے کا نظام ٹاؤنز اور یونین کونسلز کے حوالے کئے جائیں اور ادارے کا 12سالہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ کے ایم سی کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے میونسپل یوٹیلٹی چارجز کی مد میں شہریوں سے وصول کیے گئے اربوں روپے کا مکمل حساب بھی عوام کے سامنے لایا جائے،پٹیشن عثمان فاروق ایڈوکیٹ کی توسط سے دائر کی گئی۔ بعدازاں ہائی کورٹ کے باہر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ 18 برسوں کے دوران بلدیاتی اداروں کو کمزور کیا اور انکے اختیارات اور وسائل سلب کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شہر میں صفائی ستھرائی اور کچرا اُٹھانے کے ناقص انتظامات کے باعث شہر کی ابتر صورتحال کی بہتری کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں احتجاجی تحریک بھی چلائی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 14-Aکے تحت اختیارات نچلی سطح پر ٹاؤنز اور یونین کونسلز کو منتقل ہونے چاہیے تھے لیکن سندھ حکومت نے 2014 میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کرکے شہر میں صفائی ستھرائی کے اختیارات عملاً اپنے قبضے میں لے لیے، جسکے باعث آج کراچی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بدترین شکل اختیار کرچکی ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ ہر گھر سے کچرا اٹھا کر کچرا کنڈیوں تک منتقل اور وہاں سے لینڈ فل سائٹس تک پہنچایا جائے لیکن یہ ادارہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اپنی ہی پارٹی کے ذمہ داران کو 90 روز کا الٹی میٹم دیا تھا کہ شہر کی صورتحال بہتر بنائی جائے، مگر اس الٹی میٹم کے اختتام میں صرف دو ہفتے باقی ہیں اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید