لاہور (رپورٹ عمران احسان )مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی لسانی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔شرکاء کا کہنا تھا کہ ادب وہ زبان جو بغیر ترجمے کے بھی دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار کراچی سے آئے معروف مصنف محمد خان ابڑ و کی کتاب کی رونمائی کی تقریب کے دوران کیا گیا ۔ وجدان انسٹیٹیوٹ آف صوفی ازم کے زیراہتمام کتاب “جیون کتھا” کی تقریبِ رونمائی ایک ادبی، ثقافتی اور فکری رنگوں سے بھرپور محفل میں منعقد ہوئی۔کتاب جو سندھی زبان میں تحریر کی گئی تھی، اس کا پنجابی ترجمہ معروف ادیبہ اور چیئرپرسن ڈاکٹر صغرا صدف نے کیا، ترجمے کے ذریعے نہ صرف کتاب کا پیغام وسیع قارئین تک پہنچا بلکہ دو بڑے لسانی خطوں کے درمیان ادبی پل بھی مضبوط ہوا،کتاب کے مصنف محمد خان ابڑو (کراچی) نے تقریب میں مہمانوں کا پرتپاک استقبال روایتی سندھی انداز میں کیا، انہوں نے شرکاء کو سندھی اجرک اور روایتی ٹوپیاں پہنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور ثقافت محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ دو صوبوں کے درمیان محبت، برداشت اور ہم آہنگی کا مضبوط پل ہیں، جو فاصلے کم کرتے ہیں اور دلوں کو قریب لاتے ہیں۔ مجیب الرحمٰن شامی نےصدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی لسانی اور ثقافتی تنوع میں ہے، اور جب سندھی، پنجابی اور اردو ادب کے تراجم ایک دوسرے کی زبانوں میں ہوتے ہیں تو یہ صرف کتابوں کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ خیالات، جذبات اور تہذیبوں کا ملاپ ہوتا ہے ۔ مہمانانِ خصوصی سیدنور، حبیب اللہ شیخ، قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور نے کہا سندھ اور پنجاب کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے ایسی تقریبات ایک مثبت پیش رفت ہیں، “جیون کتھا” جیسے تراجم نہ صرف ادب کو نئی زندگی دیتے ہیں بلکہ مختلف زبانوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے تجربات اور احساسات سے جوڑتے ہیں۔اس موقع پر حفیظ اللہ نیازی ، میاں حبیب ، سلمان عابد ، ڈاکٹر جواز جعفری ، آصف عفان ،امجد اقبال امجد ، مقصود بٹ ، ڈاکٹر طارق شریف پیرزادہ ، شیریں مسعود ، نصیر احمد ، ہجویری بھٹی، قرات العین، اذکا مقصود ، انور عزیز چانڈیو ، رخسانہ ڈیوڈ ، یوسف پنجابی ، حمزہ کرامت اور نبیل نجم نے محمد خان ابڑو کی آپ بیتی پر مصنف کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ۔