• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے ماتحت نہیں، ہم پلہ ہیں، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار پر فیصلہ

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں جبکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں جبکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے، آرٹیکل 189ایک عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانا آئینی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے لہٰذا کلب شدہ آئینی اور ریگولر مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے، آئینی مقدمات وفاقی آئینی عدالت جبکہ ریگولر مقدمات سپریم کورٹ سنے گی، متضاد فیصلوں سے بچنے کیلئے ’عدالتی احترام‘ کا اصول اختیار کیا جائیگا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے دائر اختیار کا احترام کرتے ہوئے فیصلے کریں گی، آرٹیکل 199کے تحت دائر آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی جبکہ عام سول اور ریگولر اپیلوں کا اختیار بدستور سپریم کورٹ کے پاس رہے گا۔
اہم خبریں سے مزید