• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دستاویزی مقدمات میں ملزمان کیساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ دستاویزی نوعیت کے مقدمات میں شریک ملزمان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور خرد برد سے متعلق مقدمے میں نامزد ملزم محمد عثمان یوسف کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات تفتیشی ادارے کی تحویل میں ہیں اور درخواست گزار سے مزید کسی قسم کی برآمدگی یا تفتیش درکار نہیں۔ وکیل نے نشاندہی کی کہ اسی مقدمے میں نامزد دیگر شریک ملزمان، جن کا کردار انتظامی لحاظ سے مساوی یا بعض صورتوں میں زیادہ اہم تھا، پہلے ہی عدالتوں سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور شکایت کنندہ ادارے کی جانب سے ضمانت کی مخالفت کی گئی۔
اہم خبریں سے مزید