ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈم فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ شو آسکرز 2026ء میں اسٹیج پر امن کا پیغام دینے کی وجہ سے ہالی ووڈ کے پراجیکٹس سے محروم ہو گئے۔
ہاویئر بارڈم مظلوم فلسطینیوں کے حق میں سب سے زیادہ آواز اٹھانے والی مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں۔
اُنہوں نے حال ہی میں فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ شو آسکرز 2026ء میں بھی اسٹیج پر غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے فلسطین کے حق میں نعرے لگائے تھے۔
ہسپانوی اداکار نے حالی ہی میں امریکی میگزین ’ورائٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے مؤقف نے میرے کیریئر کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے اپنے تجربے کا موازنہ اداکارہ سوزین سیرینڈن سے کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے 2023ء میں فلسطین کی حمایت میں نکلنے والی ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس کے بعد ان کا بھی کیریئر متاثر ہوا۔
ہاویئر بارڈم نے بتایا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ پراجیکٹس اور برانڈ انڈورسمنٹ اب میرے لیے دستیاب نہیں، لیکن مجھے ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ بطور ہسپانوی اداکار میرے کیریئر کا انحصار صرف ہالی ووڈ پر نہیں ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جب میں نے اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں فلسطین کے حق میں اپنی آواز اُٹھائی تو مجھے سامنے سے منفی ردِعمل موصول ہونے کی توقع تھی لیکن مجھے وہاں اپنے مؤقف پر تالیوں کی گونج سن کر بہت حیرانی ہوئی۔
ہسپانوی اداکار نے یہ بھی بتایا کہ ہالی ووڈ میں بہت سے لوگ فلسطین کی حمایت میں ہیں، لیکن وہ اپنے ان خیالات کا کھل کر اظہار کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔