• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹی کے مقدمات اسپیشل کورٹس سنیں گی: لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ نے اوور سیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق کیسز کے حوالے سے اہم فیصلہ سنا دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹی کے مقدمات اسپیشل کورٹس سنیں گی، عدالت نے اسپشل کورٹس کا اوورسیز کے کیسز نہ سننے کے اعتراض کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اوورسیز کے پراپرٹی کیسز میں اسپیشل کورٹ کا اختیار صرف قبضہ اور ملکیت کے تنازعات تک محدود نہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق تمام مقدمات اسپیشل کورٹ میں سنے جائیں گے، وراثت، انتقال، پاور آف اٹارنی، منقولہ غیر منقولہ پراپرٹی کے مقدمات بھی اسپیشل کورٹ سنے گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اوورسیز پراپرٹی ایکٹ کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کا تحفظ ہے، ایکٹ کے تحت اوورسیز کے مقدمات اسپشل کورٹس میں سنے جانے ہیں، اسپشل کورٹ اور سول کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اوورسیز کی صرف منقولہ جائیداد کے کیسز ہی منتقل کیے، سول کورٹس اور اسپیشل کورٹس کی غلط تشریح کے درمیان مقدمات کو پنگ پونگ نہیں بنایا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ دونوں فریقین میں سے ایک بھی پارٹی اوورسیز ہو تو کیس اسپشل کورٹ سنے گی، سول کورٹس سے ٹرانفسر ہو کر آنے والے کیسز اسپشل کورٹس میں اسی اسٹیج سے چلیں گے، اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات دوبارہ نئے سرے سے دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی، اسپیشل کورٹ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے مقدمات کے لیے خصوصی اور خود مختار فورم ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے، قانون کے نفاذ کے بعد زیرِ التوا تمام متعلقہ مقدمات خودکار طور پر اسپیشل کورٹ منتقل ہوں گے، کسی فریق کو عدالتی غلطی یا دائرہ اختیار کی غلط تشریح سے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، اوورسیز کے صرف وہ مقدمات اسپیشل کورٹ میں نہیں جائیں گے جن کا تعلق غیر منقولہ جائیداد سے نہ ہو۔

لاہور ہائی کورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی اور رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔

قومی خبریں سے مزید