اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جائیدادوں کی ویلیوایشن سے متعلق معاملات میں وفاقی ٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس اور صدرِ پاکستان کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے رٹ پٹیشن دائر کر دی۔
عدالت نے کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران صدرِ پاکستان کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری اور وفاقی ٹیکس محتسب سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی، ایف بی آر کی جانب سے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے 23 مختلف کیسز میں سفارشات جاری کیں اور غیر قانونی طور پر رئیل اسٹیٹ ویلیوایشن اور پالیسی سازی کے معاملات میں مداخلت کی۔
ایف بی آر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف ٹی او آرڈیننس 2000ء کی دفعہ 9(2) کے مطابق ٹیکس اسسمنٹ اور پالیسی معاملات محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق صدرِ پاکستان نے اپنے حکم میں یہ تسلیم کیا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کا دائرہ اختیار محدود تھا، تاہم اس کے باوجود یہ قرار دیا گیا کہ اس پابندی کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایف بی آر نے مؤقف اپنایا کہ ایف ٹی او کی سفارشات اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں نہیں آتیں، جبکہ محتسب کو براہِ راست پالیسی سازی سے متعلق ہدایات دینے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات، ان پر عمل درآمد کے لیے جاری تمام نوٹسز اور صدارتی حکم نامے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی کہ حتمی فیصلے تک صدارتی حکم نامے اور ایف ٹی او کی سفارشات پر عمل درآمد معطل کیا جائے۔
ایف بی آر کے مطابق ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے ان کے اختیارات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔