• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی جواب پسند نہیں، ناقابل قبول، مسترد، ٹرمپ، آپ کی اہمیت نہیں، قوم کے حق کے لیے جواب دیا، تہران

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) امریکا ایران سیزفائر سے لیکر اب تک فریقین کے مابین تندوتیزاورسخت بیانات کے بعد خطے پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ‘صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تجاویز پر ایران کی جانب سے بھیجے گئے جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا اورکہاہے کہ میں نے ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھا ہےجو مجھے بالکل پسند نہیں آیا‘یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے‘ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے ایران 47 برسوں سے امریکا اور دنیا کے ساتھ گیم کھیل رہاہے اور واشنگٹن کا مذاق اڑاہاہے مگر اب وہ مزید نہیں ہنس پائے گا ‘ تمام اہداف کو نشانہ بنانے میں صرف دو ہفتے لگیں گے ۔ دوسری جانب ایران کی تسنیم نیوزایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی تجویز پر تہران کے جواب کے بارے میں صدر ٹرمپ کے ردِعمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘اگر ٹرمپ ایرانی جواب سے مطمئن نہیں ہیں تو یہ ہمارے لیے زیادہ بہتر بات ہے۔ہم نے قوم کے حق کیلئے جواب دیا ‘ ایران میں کوئی بھی شخص ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے منصوبے تیار نہیں کرتا۔قبل ازیں تہران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکا کو بھجوایاتھا۔باخبر ذرائع کے مطابق تہران نے مذاکرات کے لیے جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں جنگ کا خاتمہ‘ہرمز میں عدم مداخلت ‘نئے حملے نہ ہونے کی یقین دہانی ‘معاشی پابندیوں ‘بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ‘نقصانات کا ہرجانہ ‘منجمد اثاثوں کی بحالی کو بنیادی شرائط کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب صدرپزشکیان نے واضح کیا ہےکہ ہم دشمن کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے‘ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا ہرگز نہیں ہےجبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردارکیا ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا‘ جہازوں پر حملہ ہوا تو امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے‘ ایران نے برطانیہ اور فرانس کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمزسے دوررہیں‘ اگر انہوں نے آبی گزرگاہ میں اپنے جنگی جہاز بھیجے تو ایرانی مسلح افواج اس کا فیصلہ کن اور فوری جواب دیں گی جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواںنے واضح کیا ہے کہ فرانس کا ہرمز میں یکطرفہ بحری تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ وہ ایک ایسے حفاظتی مشن پر کام کر رہا ہے جو ایران کے ساتھ ہم آہنگی سے ہو گا‘ہمارامقصد ایران کے ساتھ مل کر سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے نہ کہ فوجی محاذ آرائی۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے آلے (پریشرکارڈ) کے طور پر استعمال کرنا مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔ ادھرعرب امارات اورکویت نے اپنی فضائی حدود میں ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی فوج کی مرکزی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈرجنرل علی عبداللہی نےاتوارکو رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے‘ اس موقع پر سپریم لیڈرنے فوجی قیادت کو نئی گائیڈلائن فراہم کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کے خلاف جنگی آپریشنز جاری رکھنے کا حکم دیدیا۔ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے نئے ہتھیاروں‘طریقوں اور محاذوں سے حیران کر دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق ایران نے اتوار کو برطانیہ اور فرانس کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی جہاز بھیجے تو ایرانی مسلح افواج اس کا فیصلہ کن اور فوری جواب دیں گی ۔ یہ انتباہ پیرس اور لندن کی جانب سے خطے میں اپنے بحری جہاز روانہ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہاکہ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ خواہ جنگ کا وقت ہو یا امن کا، اس آبنائے میں صرف ایران ہی سکیورٹی قائم کر سکتا ہے اور وہ کسی بھی ملک کو ایسے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب صدرٹرمپ نے ایران پر گیمز کھیلنے اور دہائیوں تک امریکا کا مذاق اڑانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی اسے روک دیا جائے گا تاہم صدرنے واشنگٹن کی حالیہ امن تجویز پر تہران کے جواب سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹس پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھاکہ تہران گزشتہ47برسوں سے امریکا اور باقی دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے اور صرف (تاخیر، تاخیر اور تاخیر!) سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے تہران پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ہمارے اب دوبارہ عظیم بننے والے ملک پر ہنس رہا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اب وہ مزید نہیں ہنس سکیں گےجبکہ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ یورینیم جب چاہیں نکالا جا سکتا ہے‘ہم جب چاہیں اسے حاصل کر لیں گے۔ ہم اس کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں‘ اگر کوئی اس جگہ کے قریب بھی گیا تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور ہم انہیں اڑا دیں گے۔ادھرایرانی فوج کی مرکزی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈرجنرل علی عبداللہی نےرہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے‘ میڈیا رپورٹس میں کسی تصویر یا ویڈیو کے بغیر بتایا گیا ہے کہ خاتم کمانڈر نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق رپورٹ پیش کی‘ایرانی مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ کے سربراہ نے ایرانی افواج امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔اگر دشمن کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی تو ایران کا ردعمل تیز‘ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا۔ علاہ ازیںصدر پیوٹن کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھاکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے اور یہ ہمیں ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال دیتا ہے کیونکہ ایران اورخلیج فارس کے ممالک کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔میری رائے میں کوئی بھی فریق اس تنازع کو جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔قطر کاکہنا ہے کہ ابوظہبی سے آنے والے ایک مال بردار جہاز کواس کی سمندری حدود میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے‘ حملے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی جس پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا‘دوسری جانب فارس نیوز نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ نشانہ بننے والا کارگو جہاز امریکا کا تھا اور وہ امریکی پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا۔

اہم خبریں سے مزید