کراچی (اسٹاف رپورٹر) بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں آذان اویس نے مشکل پچ اور مشکل صورتحال میں سنچری بناکر سینئرز کیلئے مثال قائم کی، عبداللہ فضل نے 60 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اجلے مستقبل کی جھلک دکھادی ۔ پاکستان کو چوتھی اننگز میں اپنے سینئرز سے بہتر کارکردگی کا چیلنج درپیش ہوگا۔ ڈھاکا ٹیسٹ میں پاکستان کے سینئر بیٹرز غیر ذمے دارانہ اسٹروکس کھیل کر وکٹیں گنواتے رہے اور ٹیم برتری حاصل کرنے کا موقع کھو بیٹھی۔ 103 رنز بناکر آذان اویس کے آئوٹ ہونے کے بعد بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی۔ شان مسعود، سعود شکیل اور عبداللہ فضل بھی اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے، جبکہ سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے صورتحال سنبھالی۔میچ کے تیسرے دن اتوار کو بنگلہ دیش کے 413 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم 386 رنز بناکر آئوٹ ہوگئی۔ کھیل ختم ہونے پر میزبان ٹیم نے دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 7 رنز بنائے تھے اور اس کی مجموعی برتری 34 رنز ہوگئی تھی۔سلمان آغا اور رضوان نے چھٹی وکٹ پر 119 رنز کی شراکت قائم کی، رضوان نے 59 رنز اسکور کیے۔ بارش کے سبب کھیل کافی دیر رکا رہا، کھیل دوبارہ شروع ہوا تو سلمان علی آغا 58 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ شاہین شاہ آفریدی 13، نعمان علی 2 اور حسن علی 6 رنز بنا سکے۔مہدی حسن میراز نے 102 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت بنگلہ دیش کو پہلی اننگز میں 27 رنز کی برتری ملی۔ تسکین احمد اور تیج الاسلام نے دو، دو جبکہ ناہید رانا نے ایک وکٹ حاصل کی۔بائیں ہاتھ کے 21 سالہ اوپنر آذان اویس نے امام الحق کے ساتھ 106 اور ساتھی ڈیبیو کرنے والے عبداللہ فضل کے ساتھ 104 رنز کی شراکت قائم کی۔ تیسرے روز تسکین احمد نے آذان اویس کو پہلی سلپ میں کیچ کرایا، جو ان کی 50ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔ انہوں نے پاکستان کے کپتان شان مسعود کو بھی 9 رنز پر پوائنٹ پر کیچ کروا دیا۔ مہدی حسن نے سعود شکیل کو ایل بی ڈبلیو کیا، جبکہ عبداللہ فضل 120 گیندوں پر سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 60 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے۔