کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی اخبار کا کہنا ہے اسرائیل نے عراق میں خفیہ فوجی اڈے سے ایران کیخلاف جنگی کارروائیاں کیں۔ عراق کو اس خفیہ اڈے کا علم نہیں تھا، مقامی چرواہے نے فوجی سرگرمی دیکھ کر عراقی افواج کو اطلاع دی۔ عراقی فوج قریب پہنچی تو اسرائیل نے فضائی حملے کرکے اڈہ بچایا، جنگ سے قبل قائم خفیہ اڈے سے امریکہ بھی آگاہ تھا۔ امریکی اخبار کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فضائی مہم کی حمایت کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا اور جنگ کے آغاز میں اس کے قریب پہنچنے والے عراقی فوجیوں کو روکنے کے لیے فضائی حملے بھی کیے۔ اسرائیل نے یہ تنصیب جنگ شروع ہونے سے قبل قائم کی، جس میں اسپیشل فورسز تعینات تھیں اور یہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کر رہی تھی، جبکہ اس اقدام سے امریکہ بھی آگاہ تھا۔ ذرائع کے مطابق اس اڈے پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی اسرائیلی پائلٹ کے گرنے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے، تاہم ایسی کوئی صورتحال پیش نہیں آئی۔ ایک موقع پر ایران کے شہر اسفہان کے قریب ایک امریکی ایف-15 طیارہ گرنے کے بعد اسرائیل نے مدد کی پیشکش کی، لیکن امریکی فورسز نے خود ہی اپنے دو اہلکاروں کو ریسکیو کر لیا۔