کراچی (ٹی وی رپورٹ) واشنگٹن سے ماہر مشرقِ وسطیٰ امور کامران بخاری نے کہا ہے کہ ایران، امریکا مذاکرات پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ اصل سوال یہ ہےڈیل کی نوعیت کیا ہوگی، یورینیم افزودگی پر اختلافات برقرار ہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ “کے میزبان سلیم صافی نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ ایران سے جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کو اٹھانا پڑا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے ایران۔امریکا جنگ کے تناظر میں تفصیلی تجزیہ میں کہا کہ اگرچہ امریکا ایران کو اپنا بڑا دشمن قرار دیتا ہے، تاہم اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کو اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کی پالیسیوں کے باعث اٹھانا پڑا۔اسرائیلی قیادت نے امریکا کو جنگ میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کو سفارتی، اخلاقی اور تزویراتی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سلیم صافی نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں اگرچہ ایران کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن جنگ کے اختتام سے قبل امریکا کو کئی محاذوں پر غیر معمولی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا کی اخلاقی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ جنگ کے آغاز سے قبل نہ تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت لی گئی اور نہ ہی نیٹو کی حمایت حاصل کی گئی۔