مستونگ ( رپورٹ عطااللہ بلوچ)کسٹم وئیر ہاؤس لکپاس میں آگ ، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں ،کوچز اور ٹرکوں سمیت اربوں کا ساما ن جل گیا ، 26 افراد جھلس کر زخمی،دس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، آگ کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیئے بند ، مستونگ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، متاثرین کی حکومت سے نقصان کا ازالہ کرنے کی اپیل، لکپاس کسٹم وئیر ہاوس میں آتشزدگی سو سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اسملنگ شدہ غیر ملکی سامان ایرانی پیٹرول و ڈیزل اور اربوں روپے کے دیگر اشیاء خاکستر ہوگئے جبکہ آگ کی لیپٹ میں آکر 26 افراد بھی جھلس گئے جبکہ آگ کی شدت سے ٹول پلازہ لکپاس پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیئے بند کرد یا گیا دس گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پا سکا تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز صبح دس بجے کے قریب ٹول پلازہ لکپاس پر کسٹم وئیر ہاوس آفس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور اس نے آناً فاناً پورے ایریا کو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واضح رہے کہ کسٹم ویئر ہاوس میں مختلف چھاپوں کے دوران پکڑی گئی سو سے زائد نان کسٹم گاڑیاں ، کئی کوچز کنیٹرز اور ٹرک دس ویلر گیس بوزر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں ۔ ان گاڑیو ں میں اسملنگ کا غیر ملکی سامان، قالین ، پرچون کی اشیاء ،غیر ملکی کپڑے ،سگریٹ پان چھالیہ سمیت مختلف نوعیت کا سامان موجود تھا ۔ذرائع کے مطابق زیادہ نقصان گیس بوزرز کے آگ کی لپیٹ میں آنے سے ہوا۔ آگ کی شدت سے 26 افراد جھلس گئے جنھیں انتظامیہ نے کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر د یا ۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم ونگ کمانڈر فرنٹئیرکور چلتن رائفل اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کسٹم وئیر ہاوس لکپاس کا دورہ کیا ۔ اس دوران وہاں آگ میں گھرے ہوئے ایک گیس بوزر دھماکہ سے پھٹ گیا تاہم ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام اس کے شعلوں سے بال بال بچے ۔ تاہم شعلوں کی زد میں آ کر 26 افراد زخمی ہو گئے۔ مستونگ اور کوئٹہ سے کئی فائر فائیٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں تاہم 10گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا اور آگ کی شدت کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک روک دی گئی ہے۔واقعہ کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال اور ضلعی منتظم صحت نے مستونگ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔