کراچی( اسٹاف رپورٹر) بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے تیسرا جلسہ تقسیم اسناد میں 584 فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد تقویض کی گئیں جبکہ نمایاں تعلیمی کارکردگی پر 32طلبہ کو طلائی تمغوں سے نوازا گیا۔اس موقع پر رجسٹرار کیپٹن (ر) رضا حیدر نے تمام طلبہ سے حلف لیا، جس کے بعد جلسہ کی باضابطہ تعلیمی کارروائی مکمل کی گئی۔۔ وائس چانسلر ڈاکٹر سید حسین مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ایک جامع تعلیمی و ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے،جلسہ کی صدارت وزیر جامعات و بورڈز و پرو چانسلر محمد اسماعیل راؤ نے کی جبکہ ایم این اے نبیل گبول نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر اسماعیل راہو نے “بینظیر اسکول آف پروفیشنل ایکسیلنس” کا افتتاح بھی کیا، جس کا مقصد پیشہ ورانہ تعلیم، تحقیق، جدت اور ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اپنے خطاب میں محمد اسماعیل راؤ نے کہا کہ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ انسانی محنت، والدین کی قربانی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کی عکاسی ہے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ درست سمت میں ترقی کر رہا ہے اور حکومت سندھ اس کی تعلیمی و انتظامی بہتری میں بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔ ایم این اے نبیل گبول نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دن ان کے لیے انتہائی یادگار ہے کیونکہ ان کا دیرینہ خواب پورا ہوا کہ لیاری اور اطراف سے بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر سید حسین مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ایک جامع تعلیمی و ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔