کراچی (ٹی وی رپورٹ) خواتین تجزیہ کاروں ریما عمر، محمل سرفراز اور بینظیر شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا، گودی میڈیا نے جعلی خبروں کو ہوا دی،حالیہ جنگوں نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے طریقہ کار میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ وہ جیو نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کررہی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق تجزیہ کار ریما عمر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی اہمیت آج بھی برقرار ہے، اگرچہ دنیا میں اکثر طاقتور ریاستیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں اور انہیں عالمی ضابطوں کی چنداں پروا نہیں ہوتی۔پاکستان نے اس صورتحال کے برعکس ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کی، جس کے نتیجے میں اسے سفارتی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی مذمت کی اور تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ مزید یہ کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا بھرپور حق استعمال کرتے ہوئے رافیل طیارے مار گرائے۔ جب پاکستانی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام صورتحال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اعتماد میں رکھا اور اپنی کارروائیوں میں شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا۔ بھارت میں داخلی سطح پر بعض زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری بھارتی عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں امن کے فروغ کے لئے آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں غربت کی بلند شرح کے باعث وہاں بھی امن اور استحکام کے حوالے سے بحث زور پکڑ رہی ہے۔ تجزیہ کار محمل سرفراز نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چار روز تک جاری رہنے والے تنازع کے دوران بھی پاکستان نے ریاستی سطح پر نہایت ذمہ دارانہ بیانات دیئے۔