کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز الائنس کے رہنماؤں نے بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ کے نہم جماعت کے حالیہ نتائج کو متنازع، غیرشفاف ، غیر منصفانہ اور ہزاروں طلبا و طالبات کے مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ ریجن کے نتائج کا مکمل اور شفاف آڈٹ کیا جائےیہ بات الائنس کے رہنماؤں ملک رشید احمد کاکڑ ، گلزار احمد کمالزئی ،محمد نواز پندرانی ،جعفر خان کاکڑ ،حاجی طاہر خان اچکزئی ،لیاقت علی ہزارہ ،حافظ نعمت اللہ ، جمیل احمد مشوانی ، عبدالظاہر کاکڑ ، حاجی عظمت خان کاکڑ ، مان اللہ خان ترین ، اخلاق خان کاکڑ ، ڈاکٹر محمد ایاز اور ڈاکٹر سیف اللہ اور دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیانہوں نے کہا کہ نہم جماعت کے نتائج پر شدید تحفظات ہیں یہ ہزاروں طلبا کی محنت ، والدین کی قربانیوں اور اساتذہ کی دن رات کی کاوشوں پر سوالیہ نشان ہےایک ہی بورڈ ، ایک ہی سلیبس اور ایک ہی امتحانی نظام کے باوجود مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ نتائج اور مختلف مارکنگ اسٹینڈرڈز نظر آ رہے ہیںاگر بلوچستان کے دیگر اضلاع میں 76 فیصد سے 92 فیصد تک نتائج آسکتے ہیں تو کوئٹہ شہر کے طلبا و طالبات کا نتیجہ غیرمعمولی طور پر کم ہے کوئٹہ بلوچستان کا تعلیمی مرکز سمجھا جاتا ہے لیکن کوئٹہ کے طلبا کے نتائج نمایاں طور پر کم ہیں یہ معاملہ صرف اتفاق یا تکنیکی غلطی نہیں بلکہ مارکنگ اور چیکنگ کے نظام میں سنگین خامیوں ،غیر شفافیت اور ممکنہ امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ پوزیشن اکثر مخصوص اداروں تک ہی کیوں محدود رہتی ہیں۔