کراچی (نیوز ڈیسک)ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ جنوبی امریکا سے یورپ اور امریکا تک پہنچ گیا۔ وبا کا ممکنہ آغاز ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے ہوا، متاثرہ کروز شپ کے مسافر متعدد ممالک منتقل،سفرکرنے والے مزید دوافراد میں وائرس کی تصدیق، تین ہلاکتیں، کئی افراد قرنطینہ اور نگرانی میں، امریکا وفرانس میں نئے مشتبہ کیسز، تحقیقات جاری ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہنٹا وائرس کے حالیہ عالمی پھیلاؤ کی تحقیقات کا مرکز جنوبی امریکا بن گیا ہے جہاں سے روانہ ہونے والے کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” پر وائرس پھیلنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ وبا کا تعلق اینڈیز اسٹرین سے ہے جو ارجنٹینا اور چلی کے دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہونے والی ہنٹا وائرس کی واحد معروف قسم ہے۔ تحقیقات کے مطابق شپ یکم اپریل کو ارجنٹینا کے جنوبی شہراوشویا سے روانہ ہوا تھا، جبکہ ابتدائی متاثرین ایک معمر ڈچ جوڑا تھا جو بعد میں ہلاک ہونے والوں میں شامل رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ جوڑا اوشوائیا کے ایک لینڈفل مقام پر نایاب پرندے کی تلاش میں گیا تھا جہاں چوہوں کے فضلے سے وائرس لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم مقامی حکام نے کہا کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد کوئی ہنٹا وائرس کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وائرس اب اسپین کے جزائرِ کینری سے امریکا، فرانس، برطانیہ، نیدرلینڈز، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک تک پھیل چکا ہے کیونکہ متاثرہ یا مشتبہ مسافروں کو فوجی اور سرکاری پروازوں کے ذریعے واپس منتقل کیا جا رہا ہے۔ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی متاثرین مختلف ممالک کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔