• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی شی سے گلے ملنے کی توقع پوری نہ ہوئی، صرف مضبوط مصافحہ ملا

بیجنگ (اے ایف پی، جنگ نیوز) امریکی صدر ٹرمپ چین کے دورے پر روانہ ہوئے تو انہیں توقع تھی کہ چینی صدرانہیں گلے ملیں گے اور اس کا انہوں نے سرعام اظہار بھی کیا تھا مگرصد حیف کے کہ ٹرمپ کی شی جن پنگ سے گلے ملنے کی توقع پوری نہ ہوئی، اور انہیں اس سنجیدہ رہنما کا صرف مضبوط مصافحہ ملا۔امریکی صدر چینی ہم منصب کو دوست دوست کہتےرہے تاہم چینی صدر کا اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا حالانکہ وہ یہ اصطلاح روسی صدر پوٹن اور پاکستان کیلیے استعما ل کرتے رہے ہیں اور ماضی میں انہوں نے جزوی طور پر اسے ذاتی تعلق بھی قرار دیا تھا تاہم اس مرتبہ انہوں نے امریکا کو محض ،شراکت دار کہنے پراکتفا کیا۔ چینی صدر جو بالعموم قدیم چینی دانشوروں کے اقوال کا حوالہ دیتے رہتے ہیں انہوں نے اس مرتبہ امریکا چین تعلقات کی تشبیہ کیلیے قدیم یونانی مورخ کی اصطلاح " تھیوسیڈائڈز ٹریپ" کا استعمال کیا۔ اس سے پہلے جو بائیڈن سے ملاقات دوران بھی وہ یہ اصطلاح استعمال کرچکے ہیں۔ چین کے گریٹ عوامی ہال میں استقبال کے دوران امریکی صحافیوں اور چینی سیکورٹی میں تلخی بھی ہوئی اور غصے بھرے جملے ریکارڈ ہوگئے۔ٹیمپل آف ہیو ن میں امریکی سیکرٹ ایجنٹ کو اسلحے سمیت داخلے سے روک دیا گیا، امریکی اہلکار کو اپنے چینی میزبانوں کو یہ طعنہ دیتے سنا گیا کہ " آپ بہت خراب میزبان ہیں"۔ ٹرمپ کے دورے اور متعلقہ امور پر چینی سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے ہوتے رہے۔

اہم خبریں سے مزید