کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے عدالتی احکامات اور اپنے ہی بنائے گئے میرٹ سسٹم کو نظر انداز کرتے ہوئے گریڈ20کی اسامی پر گریڈ 19 کی افسر کو تعینات کر دیا، جس کے بعد محکمہ میں شفافیت، میرٹ اور تقرریوں کے طریقہ کار پر دوبارہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوسکا۔سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی کی جانب سے 14 مئی 2026 کو جاری اعلامیے کے مطابق وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی منظوری سے گریڈ 19 کی سینئر ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر انیلہ صدف کو فوری طور پر انسٹیٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز کراچی کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا۔ اعلامیے میں ڈاکٹر انیلہ صدف کا گریڈ واضح طور پر 19 درج کیا گیا تاہم ڈائریکٹر کی پوسٹ کے گریڈ 20 ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ اعلیٰ گریڈ کی پوسٹ پر جونیئر گریڈ افسر کی تعیناتی نہیں کی جا سکتی، مگر اس کے باوجود یہ تقرری عمل میں لائی گئی۔