کراچی (اسٹاف رپورٹر) بارش میں بچے کو بچاتے ہوئے شہری کی ہلاکت کے مقدمے میں مقامی عدالت نے کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دے کر ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق، سینئر سول جج وسطی کی عدالت نے بارش کے دوران بچے کو کرنٹ سے بچانے کی کوشش میں جاں بحق ہونے والے شہری شیخ سعد احمد کی ہلاکت کے مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیا اور جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے بطور ہرجانہ نوے روز میں دعویداروں کو ادا کرنے کا حکم دیا، درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے مطابق شیخ سعد احمد سال2019 میں بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے لگنے والے کرنٹ سے بچانے کی کوشش میں خود کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ علاقہ مکینوں نے قبل ازیں کے الیکٹرک کو شکایات بھی کی تھیں مگر مؤثر کارروائی نہ کی گئی، کے الیکٹرک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ پول ان کی ملکیت نہیں تھا اور اس پر نجی جنریٹر، ٹیلی فون اور کیبل کی تاریں نصب تھیں، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقامات پر بجلی کی ترسیل کے نظام اور تنصیبات کو محفوظ بنانا کے الیکٹرک کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی سے ادارہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔