• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنکی کی تند و تیز انداز میں پیشی پولیس حکام کیلئے درد سر بن گئی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پنکی کی تند و تیز انداز میں پیشی پولیس حکام کیلئے درد سر بن گئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹس کا مجموعی طور پر 8روزہ جسمانی ریمانڈ ، ملیر کی عدالت کاجیل بھیجنے کا حکم ۔ تفتیشی حکام بات نہ ماننے پر خاندان کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، پنکی کا دعوی۔ تفصیلات کے مطابق ہم تو ڈوبے ہیں صنم ان سب کو لے ڈوبیں گے، یہ محض محاورہ نہیں تھا بلکہ بین الصوبائی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی دھمکی تھی۔ ملزمہ کی تند و تیز انداز میں پیشی پولیس حکام کے لئے سردرد بن گئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی نے منشیات کے مقدمے میں ملزمہ کا 6روزہ،جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے قتل کے مقدمے میں 2روزہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع جبکہ ملیر کی عدالت نے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا۔ کراچی سٹی کورٹ میں بین الصوبائی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل کے مقدمے میں 3روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر اسپیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ بغدادی پولیس نے ملزمہ کو سٹی کورٹ میں پیشی کے لئے لایا تاہم پہلے روز کے مقابلے میں پولیس نے ایس او پیز کو مدنظر رکھا اور خاتون پولیس افسران و اہلکار کے ہمراہ ملزمہ کو لے کر عدالت آئے۔ اس دوران کوکین ڈیلر کا انداز کسی ولن کریکٹر کی صورت دیکھنے میں آیا، پولیس موبائل میں پرسکون بیٹھی ملزمہ کیمروں کو دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کردیا اور چیختے ہوئے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جارہا ہے، تفتیشی حکام اپنی مرضی کے نام کہلوا رہے ہیں، بات نہ ماننے پر خاندان کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ اسے 20 روز پہلے لاہور سے گرفتار کر کے 15 دن بعد کراچی پولیس کے سپرد کیا گیا۔ انمول عرف پنکی کو سٹی کورٹ میں جنوبی اور وسطی کے دو اضلاع میں پیش کیا گیا۔ جنوبی میں ملزمہ پر گزری تھانے کے 6، درخشاں کے 5، بغدادی کا ایک جبکہ گارڈن کے 2 مقدمات شامل تھے اور ضلع وسطی میں ملزمہ کے خلاف ایس آئی یو سینٹرل کا ایک مقدمہ تھا۔ جبکہ ملیر کی عدالت میں سچل تھانے کے ایک مقدمے میں پیش کیا گیا۔ 16 مقدمات میں سے 14 مقدمات منشیات ایک قتل جبکہ ایک مقدمہ غیر قانونی اسلحہ کا تھا۔ سب سے پہلے کوکین ڈیلر ملزمہ کو ضلع جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمہ نے بیان دیا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ مجھے حراساں کیا جارہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے آپ آرام سے بیٹھ جائیں، عدالتی حکم پر ملزمہ کو پانی پلایا گیا۔ فاضل مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ سٹی کورٹ ہے یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔ ملزمہ نے کہا کہ مجھے 20 دن سے اٹھایا ہوا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا کیا نام ہے۔ ملزمہ نے کہا میرا نام انمول ہے۔ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی۔ 6 آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لے کر آئے۔ 15 دن بعد مجھے پولیس کے حوالے کیا گیا گیا۔ مجھ سے زور زبردستی کر کے لوگوں کے نام کہلوائے جارہے ہیں۔ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جو ہم نام بتارہے ہیں ان سب کا نام لو۔ عدالت نے مکالمے میں کہا کہ ابھی آپ کا اقبالی بیان نہیں ہو رہا ہے۔ عدالت نے ملزمہ سے پوچھا آپکی طبعیت اب ٹھیک ہے۔ ملزمہ نے کہا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کرو ورنہ آپکی فیملی کو اٹھا کر لیں جائیں گے۔ پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے انہوں نے کہا تھا اداکاری کرتے ہوئے کورٹ میں ایسے آپ نے چلنا ہے۔ جہاں سے میری گرفتاری دیکھائی گئی وہ میرا گھر ہی نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کون ہیں جسے پیش کرنا ہے۔ عدالت کے حکم پر 2 ملزمان ذیشان اور سہیل کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ دونوں ایزی پیسہ چلاتے ہیں۔ کتنے کی ٹرانزیکشن کی گئی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ دونوں ملزمان نے کروڑوں کی ٹرانزیکشن کی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ دونوں کون ہیں۔ ملزم سہیل نے کہا کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے۔ نظر ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں۔ دوران سماعت بغدادی پولیس کے تفتیشی افسر نے قتل کیس میں ملزمہ مزید ریمانڈ مانگ لیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمہ سے کیا تفتیشی کی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ہم نے معائنہ کیا مزید 11 مقدمات درج کئے گئے۔ ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی۔ تینوں کیسز میں پہلی دفعہ ملزمہ کو جیل بھیجا گیا۔ ملزمہ بہت عرصے بعد پکڑی گئی ہے۔ ملزمہ نے کہا کہ مجھے اپنے وکیل سے بات کرنی ہے باہر نہ بھیجا جائے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ باہر نہ بھیجیں پولیس موبائل میں بیٹھنے دیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے آپ کمرہ عدالت میں بات کرلیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم قمر کون ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم قمر 512 میں مفرور ہے، ہمیں تمام ملزمان جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش کرسکیں۔ وکیل صفائی میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کو جیل بھیجا جائے۔ وکیل صفائی نے عدالت درخواست کی ہمیں ملزمہ کے ساتھ باہر بیٹھنے دیا بجائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے سیکیورٹی کا معاملہ ہے آپ کو کیسے باہر بیٹھنے کی اجازت دیں۔ منشیات کا اتنا بڑا نیٹ ورک چلا رہی ہے، ملزمہ کو اگر کوئی بھگا کر لے گیا تو کون ذمہ دار ہوگا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ مجھے انمول سے دیگر مقدمات میں بھی وکالت نامہ دستخط کرانا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے جب آرڈر کر دوں تو آپ دستخط کرالینا، پولیس یا جیل ریمانڈ ہوسکتا ہے۔ جیل کسٹڈی ہوجائے تو جیل جاکے سائن کرالیجئے گا۔ 12سے زائد مقدمات ہیں فیصلہ سنانے میں 2 گھنٹے لگ سکتے۔ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمہ کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ ملزمہ انمول نے پولیس کی جانب سے تشدد کی کوئی شکایت نہیں کی۔ تفتیشی افسر نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا ملزمہ منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک پاکستان میں آپریٹ کر رہی تھی۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے منظم نیٹ ورک چلارہی ہے۔ جاں بحق شخص کے پاس سے ملزمہ کی فراہم کردہ منشیات برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے ملزمہ کی تفتیشی ضروری ہے۔ وکیل صفائی میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمہ کا منشیات کی ڈبیوں کے ساتھ لینا دینا نہیں ہے۔ ملزمہ کے قبضے سے کوئی بھی اس طرح کی ڈبی برآمد نہیں ہوئی تھی۔ ملزمہ پچھلے 22 دنوں سے پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزمہ سے من گھڑت بیانات دلوائے جارہے ہیں۔
شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید