پشاور(جنگ نیوز)ٹانک میں مجوزہ نئی تحصیل کے قیام پر شدید اعتراضات سامنے آگئے ہیں، جبکہ ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اربوں روپے ضائع کرنے اور مقامی آبادی کو مشکلات سے دوچار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ گل امام کا مجوزہ مقام “ہائی یونیورسل فلڈ زون” میں واقع ہے اور وہاں زیر زمین پینے کے میٹھے پانی کی دستیابی بھی نہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ صورتحال نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔اعتراض کنندگان کے مطابق نئی تحصیل کا مجوزہ نام بھی متنازع ہے کیونکہ یہ مبینہ طور پر نسلی بنیادوں پر رکھا گیا، جبکہ اس علاقے میں مروت، میانی، قریشی، جٹ، سید، مندوخیل، فقیر، بیٹنی، مچن خیل، بدین خیل اور کاریگر سمیت کئی دیگر برادریاں بھی آباد ہیں۔عمائدین کا کہناہے کہ نئی تحصیل کا مقام گل امام کے بجائے آما خیل اور پانی والہ کے درمیان منتقل کیا جائے، جہاں وسیع ہموار زمین، زیر زمین پینے کے میٹھے پانی کی دستیابی اور مجوزہ تحصیل کا مرکزی محل وقوع موجود ہے۔ مزید مؤقف کے مطابق یہ علاقہ گل امام کے مقابلے میں سیلابی خطرات سے محفوظ ہے۔سرکاری دستاویزات میں مبینہ تضاد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جس کے مطابق ایک نوٹیفکیشن میں نئی تحصیل کا نام “کندی تحصیل” درج ہے جبکہ محکمہ انتظامیہ کے دوسرے خط میں اسے “تحصیل نمبر 2” لکھا گیا ہے۔مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ایک آزاد انکوائری اور سلیکشن کمیٹی تشکیل دے، جس میں فلڈز اینڈ ایریگیشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سی اینڈ ڈبلیو، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا، ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین اور غیر جانبدار بیوروکریٹس شامل ہوں تاکہ نئی تحصیل کے نام اور مقام کا مکمل میرٹ پر فیصلہ کیا جا سکے اور حتمی منظوری کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔ریٹائرڈ چیف انجینئر واپڈا انجینئر نظر حیات خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر مجوزہ نام اور مقام پر نظرثانی کرے تاکہ مستقبل میں انتظامی، ماحولیاتی اور سماجی مسائل سے بچا جا سکے۔