• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانچ افغان خاندان کواوریجن کارڈ قانون کے مطابق دینے کی ہدایت

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے 5افغان نژاد خاندانوں کو قانون کے تحت پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراءکاحکم دیدیا جبکہ ان کے پاکستانی بچوں کی رجسٹریشن یا فارم ب کے اجراءکیلئے انہیں متعلقہ حکام سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور نادراحکام کو یہ مرحلہ 6ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی جبری بے دخلی بھی روک دی ہے ۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقاراحمداورجسٹس بابرستار پر مشتمل دورکنی بنچ نے ثمیرہ، فرزانہ ، حمیرہ،شاندانہ اور نورین بی بی کی درخواستوں پرسماعت کی جبکہ فیصلہ جسٹس وقار احمد نے تحریرکیا ہے ۔ان کے وکلاءاصغر لیاقت علی، محمد وقاص عارف اور احمد اقبال نے رٹ پٹیشنز میں موقف اختیار کیاکہ درخواست گزارخواتین پاکستانی ہیں اور انہوں نے افغان شہریوں سے شادی کی اوران کے بچے بھی ہیں لہذا ملکی وعالمی قوانین کے مطابق وہ پاکستان اوریجن کارڈاوران کے بچے رجسٹریشن کے حقدار ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ افغان مہاجرین کوواپس افغانستان بھیجنے کے مہم کے دوران ان کی جبری منتقلی کا بھی خدشہ ہے ۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں نادرا کو ہدایت کہ وہ نادرا آرڈیننس 2002کے سیشن 11اورنیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی رولز 2002کے تحت ان کی پی اوسی کی درخواستیں نمٹائیں۔درخواست گزارنیوٹرالائزیشن ایکٹ 1926 کے تحت نیوٹرالائزیشن کیلئے ایپلائی کرسکتے ہیں اور ان کا کیس ڈی جی ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو حل کرناچاہیے۔فاضل بنچ نے ہدایت کی کہ یہ مرحلہ 6ماہ کے اندر اندرمکمل کیا جائے جبکہ اس عرصے کے دوران انہیں افغانستان بے دخل نہ کرنے کاحکم بھی دیدیا ہے ۔
پشاور سے مزید